کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 98
الاسقع رضی اللہ عنہ کی روایت میں ’’فَسَمِعْتُہٗ‘‘ کے الفاظ ہیں۔ علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ اس پر رقمطراز ہیں: ( جَمِیعُ ذٰلِکَ یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جَہَرَ بِالدُّعَائِ) [1] ”یہ تمام الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کو بلند آواز سے پڑھا ہے۔‘‘ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بایں الفاظ تبویب قائم کی ہے: (بَابُ قِرَائَ ۃِ فَاتِحَۃِ الکِتَابِ عَلَی الجَنَازَۃِ۔ وَ قَالَ الحَسَنُ: یَقرَأُ عَلَی الطِفلِ بِفَاتِحَۃِ الکِتَابِ) ”جنازے پر سورہ فاتحہ پڑھنے کا بیان۔ حضرت حسن نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچے کی نمازِ جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے۔‘‘ یاد رہے اس بحث کا تعلق صرف جوازِ جہر سے ہے لاغیر(نہ کہ کوئی اور) مذکورہ تینوں مسئلوں میں بالاختصار شریعت کی روشنی میں وضاحت ہو چکی، جو راہنمائی کے لیے کافی ہے۔ تاہم امام ایسا شخص مقرر کرنا چاہیے جس میں اتباعِ سنت کا جذبہ موجزن ہو۔ واﷲ ولی التوفیق۔ نمازِ جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنا سوال۔نمازِ جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنا۔ (1) ”صحیح بخاری‘‘ میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لَا صَلَاۃَ لِمَن لَم یَقرَأ بِفَاتِحَۃِ الکِتَابِ) [2] ”جس نے نماز میں فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں۔‘‘ وجہِ استدلال یہ ہے کہ حدیث ہذا عموم کے اعتبار سے نمازِ جنازہ کو بھی شامل ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بھی نماز رکھا ہے۔ چنانچہ فرمایا: (مَن صَلّٰی عَلٰی الجَنَازَۃِ)نیز فرمایا: ( صَلُّوا عَلٰی صَاحِبِكُم) اور دوسری روایت میں ہے:( صَلُّوا عَلَی النَّجَاشِی) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی ’صحیح‘ کے (ترجمۃ الباب)میں رقمطراز ہیں: (سَمَّاہَا صَلَاۃً لَیسَ فِیہَا رُکُوعٌ، وَ لَا سُجُودُ) یعنی نمازِ جنازہ میں رکوع اور سجود نہ ہونے کے باوجود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام نماز رکھا ہے۔ (2)”صحیح بخاری‘‘ میں طلحہ بن عبداللہ بن عوف رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: (صَلَّیتُ خَلفَ ابنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَلٰی جَنَازَۃٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَۃِ الکِتَابِ) [1] ۔ نیل الأوطار:4/69 [2] ۔ صحیح البخاری، باب وُجُوبِ القِرَائَۃِ لِلاِمَامِ وَالمَامُومِ فِی الصَّلٰوۃِ کُلِّہَا … الخ،رقم:756،صحیح مسلم:394