کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 86
غسل کے وقت قبلے کی سمت پیروں کی صریح ممانعت ہے تو بتائیں سوال۔قبلے کی سمت پیروں کی صریح ممانعت ہو تو بتائیں۔(عبدالغنی عاصم۔ لسبیلا) (5مئی 2000) جواب۔ قبلے کی سمت پاؤں کی ممانعت کا کسی حدیث میں ذکر نہیں۔ کیا شوہر اور بیوی وفات کے بعد ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں؟ سوال۔کیا شوہر اور بیوی وفات کے بعد ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ (ایک سائل ۔لاہور) (9 جولائی 1999) جواب۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے جنازے سے لوٹے اور میرے سرمیں درد ہو رہا تھا اور میں ہائے ہائے کر رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بلکہ میرے سر میں درد ہوتا ہے۔ تجھے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اگر تو مجھ سے پہلے مر گئی تو میں تجھے غسل اور کفن دوں گا ۔ پھر تجھ پر نمازِ جنازہ پڑھوں گا ۔ اور تجھے دفن کروں گا۔[1] نیز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں، اگر ہمیں پہلے خیال آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویوں کے سوا کوئی غسل نہ دیتا ۔[2] حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت اپنی بیوی اسماء کو وصیت کی کہ وہ انھیں غسل دے۔ پس اس نے حضرت ابوبکر کو غسل دیا۔[3] ”نیل الاوطار‘‘ (4/29) میں ہے کہ: ’’ اس میں دلیل ہے کہ مرد اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے اور عورت بھی اس دلیل سے خاوند کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ خاوند بیوی کا ایک پردہ ہے۔ جس طرح مرد عورت کو دیکھ سکتا ہے عورت بھی مرد کو دیکھ سکتی ہے۔ نیز اسماء(حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی) نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غسل دیا۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل دیا۔ اور صحابہ رضی اللہ عنھم سے کسی نے اس پر انکار نہیں کیا۔ پس اس پر صحابہ رضی اللہ عنھم کا اجماع ہو گیا کہ خاوند بیوی ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔‘‘ [1] ۔مسند احمد،رقم:25908 سنن الدارمی،بَابٌ فِی وَفَاۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،رقم:81، سنن ابن ماجہ،بَابُ مَا جَاء َ فِی غَسْلِ الرَّجُلِ امْرَأَتَہُ، وَغَسْلِ الْمَرْأَۃِ زَوْجَہَا، رقم:1465 [2] ۔ مسند احمد،سنن ابن ماجہ،بَابُ مَا جَاء َ فِی غَسْلِ الرَّجُلِ امْرَأَتَہُ، وَغَسْلِ الْمَرْأَۃِ زَوْجَہَا، رقم:1464 [3] ۔ المنتقیٰ باب ما جاء فی غسل احد الزوجین للاخر