کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 83
تجہیز و تکفین کے مسائل کیا مرد اور عورت کے کفن میں فرق ہے ؟ سوال۔ کیا مرد اور عورت کے کفن میں فرق ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں؟ جواب۔ مرد اور عورت کا کفن ایک جیسا تین چادریں ہیں، لیلیٰ بنت قائف ثقفیہ کی حدیث میںعورت کے لیے پانچ کپڑوں کا ذکر ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں کیوں کہ اس میں نوح بن حکیم ثقفی مجہول ہے اور علامہ زیلعی نے ایک دوسری علت کی بھی نشان دہی کی ہے ، ملاحظہ ہو :( نصب الرایہ:2/258) میت کو غسل دینے کا مسنون طریقہ: سوال۔ محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ! میت کو نہلانے کا طریقہ تفصیل سے تحریر فرمادیں۔ (ایک سائلہ۔ اوکاڑہ) (6 جولائی 2001) جواب۔ اس سوال کے تفصیلی جواب کے لیے علامہ عبدالرحمن مبارک پوریؒ کی کتاب’’کتاب الجنائز‘‘ کا اقتباس ملاحظہ ہو۔ ”میت کو غسل دینے کا ارادہ کریں تو اس کا کپڑا اتاردیں۔ مگر بدن کاجتنا حصہ زندگی کی حالت میں چھپانا ضروری ہے اس کو بے ستر نہ کریں، پھر ہاتھ میں کپڑا لپیٹ کر اس کا استنجا کرائیں اور بدن پر کہیں نجاست ہو تو اس کو پاک کریں، پھر وضوء کرائیں اور سر اور داڑھی میں بال ہوں تو خطمی(ایک بوٹی) سے یا کسی اور صاف کرنے والی چیز سے دھوئیں اور اگر میت عورت ہو تو اس کے سر کی چوٹیوں کو کھول کر اس کا سر دھوئیں، پھر تین بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیں اور اخیر بار پانی میں کافور ملائیں، اگر تین بار سے زیادہ غسل دینے کی ضرورت معلوم ہو تو پانچ بار غسل دیں یا پانچ بار سے بھی زیادہ مگر طاق ہونا چاہیے اور غسل دینے میں داہنی طرف سے شروع کریں۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں، اسی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر داخل ہوئے اور فرمایا کہ ان کو غسل دو اور پانی بیری کے پتوں سے تین بار یا پانچ بار یا اس سے زیادہ اگر تم کو ضرورت معلوم ہو اور اخیر غسل میں کافور ڈالو۔[1] اور ایک روایت میں ہے کہ ان کی داہنی طرف سے اور وضوء کی جگہوں سے شروع کرو۔[2] [1] ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ میت کے تینوں غسل پانی اور بیری کے پتوں سے ہونے چاہئیں، اور تیسرے غسل میں کچھ کافور بھی ملا لینا چاہیے، لیکن سنن ابی داؤد میں محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ انھوں نے غسل میت کا طریقہ ام عطیہ سے سیکھا تھا، وہ غسل دیتے تھے پانی اور بیری کے پتوں سے دوبار اور تیسری بار پانی اور کافور سے۔ [2] ۔ صحیح البخاری،بَابُ مَا یُسْتَحَبُّ أَنْ یُغْسَلَ وِتْرًا،رقم:1254، وبَابُ مَوَاضِعِ الوُضُوء ِ مِنَ المَیِّتِ، رقم:1256، و صحیح مسلم۔