کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 79
کرادیا جاتا ہے۔ مثلاً صالح انسان شدت سے ثواب موعود کا منتظر رہتا ہے۔ جب کہ نافرمان پریشانی کا اظہار کرتا ہے۔اس پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ’’صحیح‘‘ میں بایں الفاظ تبویب قائم کی ہے: (بَاب قول المیت و ہُوَ عَلی الجَنازۃ قَدِّمُوْنِیْ)( باب اس بات کا کہ میت، اُس وقت جب کہ اس کی لاش چار پائی پر ہوتی ہے ، یہ کہتی ہے مجھے جلدی لے چلو) ھٰذَا مَا عِنْدِی وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ، وَ عِلْمُہُ اَتَمُّ: کیا مرنے والے کی مدح سرائی کرنا درست ہے ؟ سوال۔ بعض لوگوںکا کہنا ہے کہ جنازے کے موقع پر مرنے والے کی مدح سرائی کرنے کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں۔ یہ بدعت ہے کیا یہ خیال درست ہے ؟ (سائل محمد یحییٰ عزیز ڈاھروی۔قصور) (5 مئی 2000) جواب۔ واقعہ کے مطابق ( مبالغہ کیے بغیر) میت کی مدح سرائی ہو سکتی ہے۔ بشرطیکہ تعریف کرنے والے متقی اور ثقہ قسم کے لوگ ہوں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بَابَ ثَناء الناس علی المیت کے تحت ’’صحیح بخاری‘‘ میں جواز کی حدیث بیان کی ہے۔ ( ہَذَا أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ خَیْرًا، فَوَجَبَتْ لَہُ الجَنَّۃُ، وَہَذَا أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ شَرًّا، فَوَجَبَتْ لَہُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُہَدَاء ُ اللّٰهِ فِی الأَرْضِ)[1] ”یعنی تم نے اس کی اچھی تعریف کی تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ تم نے اس کی برائی کی تو دوزخ واجب ہو گئی۔ تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔‘‘ حائضہ عورت کا میت کو ہاتھ لگانا سوال۔ کیا حائضہ عورت میت کو ہاتھ لگا سکتی ہے اور کیا صرف باوضوء ہو کر میت کو ہاتھ لگایا جا تا ہے یا بغیر وضوء کے بھی؟ (ایک سائلہ ۔اوکاڑہ) (6 جولائی 2001) جواب۔ حائضہ عورت میت کو ہاتھ لگا سکتی ہے کیونکہ اصلاً وہ پاک ہے۔’’صحیح مسلم‘‘میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہود کی عادت تھی کہ بحالت حیض عورتوں سے کھانے پینے میں بھی علیحدگی اختیار کرلیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے مجامعت کے ما سواء فائدہ حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ قرآن میں ہے: (فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ) (البقرۃ: 222) ”حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہو۔“ سے مراد بھی یہی ہے۔ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ ثَنَاء ِ النَّاسِ عَلَی المَیِّتِ ،رقم:1367