کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 66
امام ابوحنیفہ سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ گویا محدثین کی روش کو اپنانا امام صاحب کی تقلید کے منافی نہیں ہے۔ 2۔ دوسرا وصف: محدثین کا دوسرا وصف، اَمانت اور دیانت کا اہتمام ہے۔ انھوں نے احادیث کی جمع وتدوین میں بھی کمال دیانت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اور جرح و تعدیل کے اصولوں کو استعمال کرکے احادیث کا رتبہ متعین کرنے میں بھی انھوں نے کسی ذہنی تحفظ کا مظاہرہ کیا ہے، نہ کسی حزبی و فقہی تعصب کا۔ اہل تقلید کا رویہ: اہل تقلید میں اِس کی بھی کمی ہے۔ اس کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں، لیکن یہاں ہم صرف چار مثالیں پیش کریں گے، دو علمائے دیوبند کی، تیسری بریلوی حضرات کی یہ دونوں ہی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد کہلاتے ہیں۔ چوتھی مثال دونوں میں قدر مشترک کی حیثیت رکھتی ہے۔ پہلی مثال: خواتین نماز کس طرح پڑھیں؟ یعنی وہ رکوع سجدہ کس طرح کریں؟ ہاتھ کہاں باندھیں؟ رفع الیدین کس طرح کریں؟ عورتوں کی بابت کسی بھی صحیح حدیث میں ان امور کی وضاحت نہیں ملتی، اس لیے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: (صَلُّوا كما رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي) ’’تم اس طرح نماز پڑھو، جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘ کے عموم میں شامل ہوں گی اور مذکورہ سارے کام مردوں ہی کی طرح سرانجام دیں گی۔ لیکن علمائے احناف کہتے ہیں کہ مرد اور عورت کی نماز میں فرق ہے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ عورت ہاتھ سینے پر باندھے (جب کہ مرد ناف کے نیچے) عورت ہاتھ باندھتے، یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت اپنے ہاتھ کندھوں تک اُٹھائے(جب کہ مرد کانوں کی لَو کو ہاتھ لگائے) عورت سجدہ بالکل سمٹ کر اور زمین سے چمٹ کر کرے، جب کہ سجدے میں مردوں کی کہنیاں اور بازو زمین سے اُٹھے ہونے چاہئیں۔ اِسی طرح کچھ اور فرق بھی بتلائے جاتے ہیں(ہم نے ختصار کی خاطر موٹی موٹی باتیں بیان کی ہیں۔) ’’خواتین کا طریقۂ نماز‘‘ تالیف مولانا عبدالرؤف سکھروی ہمارے سامنے ہے، اِس میں ان فروق کو بیان کرنے کے لیے احادیث کے نام سے کئی احادیث بیان کی گئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک حدیث بھی صحیح نہیں ہے اور ستم ظریفی کی انتہا ہے یا امانت و دیانت کے فقدان کا یہ حال ہے کہ ان بیان کردہ احادیث میں السنن الکبرٰی للبیہقی کی دو روایات بھی ہیں۔ جن کو درج کرکے امام بیہقی نے لکھا ہے: لا يحتج بأمثاله ’’یہ روایات اتنی ضعیف ہیں کہ ان جیسی روایات سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ لیکن مذکورہ کتاب کے مؤلف نے ان الفاظ کو تو نقل نہیں کیا، البتہ دونوں ناقابل استدلال روایات کو اپنے استدلال میں پیش کیا ہے۔ یہی حال دیگر روایات کا ہے جو انھوں نے پیش کی ہیں۔ فإِلی اللّٰہ المشتکی۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ،راقم کی کتاب ’’کیا عورتوں کا طریقۂ نماز