کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 653
کیا بلی، کتا کی شکل کے کھلونے رکھنادرست ہے؟ سوال۔ بچوں کے اکثر کھلونے اصل کی شکل کے ہوتے ہیں، مثلاً بلی، کتا وغیرہ کیا ایسے کھلونے رکھنادرست ہے؟ (میر عبدالمجید) (12 مئی 2003ء) جواب۔ بخاری مسلم، ’’مسند احمد‘‘ کی مشہور روایت میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں۔ اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ بچیوں کے کھیلنے کے لیے گڑیاں بنانا جائز ہے تاکہ انھیں بچپن ہی سے امورِ خانہ داری کی تربیت دی جاسکے۔ میرے خیال میں محض کھیل کے لیے حرام جانوروں کی تصویروں سے بالخصوص احتراز کرنا چاہیے۔ لیکن شئے کا اصل کے مشابہ ہونا کوئی عیب کی بات نہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: عون المعبود:4/439۔ بچوں کو مصروف کرنے کے لیے فلم چلانا سوال۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ میرے دو بچے ہیں جن کی عمریں 14 ماہ اور ساڑھے چار سال ہیں۔ یہ دونوں انتہائی تنگ کرتے ہیں۔ ہمارا گھرانہ مذہبی ہے بچوں کو قرآن اور احادیث بھی بتائی جاتی ہیں اور پردہ بھی۔ نیز ٹی وی بالکل بند ہے۔ اکثر وبیشتر میری بیوی کو نماز پڑھنے میں بہت تنگ کرتے ہیں۔ ہمارے پاس ایک فلم ہے جس میں ہاتھی، شیر، گھوڑے وغیرہ ہیں ہمیں اِس حدیث کا پتا چلا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گھوڑوں سے کھیلتی تھیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم منع نہیں فرماتے تھے۔ فتویٰ عنایت کریں کیا مذکورہ صورت میں میری بیوی نماز اور قرآن خشوع سے پڑھنے کی خاطر لالچ کے طور پر بچوں کو یہ فلم ٹی وی پر لگا کے دے سکتی ہے؟ کیا مندرجہ بالا حدیث تصویروں کی حرمت کے احکام کے باعث منسوخ ہے؟ (فرحان احمد، کراچی) ( 13 ۔اپریل2007ء) جواب۔ اسلام کھیل براہِ کھیل کا قائل نہیں۔ تصویر کا اس وقت جواز ہے جب اس سے مصلحت یا تربیت کا کوئی پہلو وابستہ ہو جو تہذیب نفوس، ثقافت یا تعلیم کے لیے مفید ہو مشار الیہ حدیث کو اہل علم نے تربیت اولاد پر محمول کیا ہے منسوخ نہیں۔ چنانچہ امام قرطبی فرماتے ہیں: ( قَالَ الْعُلَمَائُ وَ ذٰلِکَ لِلضَّرُوْرَۃِ اِلٰی ذٰلِکَ وَحَاجَۃَ الْبِنَاتِ حَتّٰی یَتَدَرَّبْنَ عَلٰی تَرْبِیَۃِ اَوْلَادِہِنَّ ثُمَّ اِنَّہٗ لَا بَقَائَ لِذَلِکَ ) [1] مذکورہ بالا کھیل میں چونکہ تربیت اولاد مقصود نہیں اس لیے اس پر بچوں کو مصروف رکھنا ناجائز ہے۔ ان کو مشغول رکھنے کا کوئی مباح طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔ مثلاً: کھانے کے لیے ٹافیاں یا بچوں کی کسی مرغوب شے سے ان کا دل