کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 646
ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ (سورۃ المومنون: 12) (سورۃ السجدہ: 32)(ایم فاروق) ( 9 مئی 1997ء) جواب۔ ان نصوص کا مفہوم یہ ہے کہ اصلاً آدمی مٹی سے بنا ہے بعد میں منوی مادہ منتقل ہو گیا۔ مومن اور مسلم میں کیا فرق ہے ؟ سوال۔ مومن اور مسلم میں کیا فرق ہے؟ (آصف احسان ملک ستیانہ روڈ۔ فیصل آباد۔ 11 اپریل 1997ء) جواب۔سوال ہذا کا جواب قبل ازیں بھی آپ ہی کے حوالہ سے الاعتصام میں تفصیلاً شائع شدہ ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ ایمان اور اسلام میں سے ہر ایک کا دوسرے پر اطلاق ہے لیکن جمع کی صورت میں ایمان میں باطن کا لحاظ ہوتا ہے جب کہ اسلام میں ظاہر کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ حدیث جبریل اس امر کی واضح دلیل ہے۔ کیا حمل ٹھہرنے کے بعد عورت کا رحم جماع سے متاثر ہوسکتا ہے؟ سوال۔ رحم میں نطفہ جب پہنچتا ہے تو ایک ہی جرثومہ بیضہ میں داخل ہوتا ہے پس اسی کیساتھ بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ بعد میں جتنی بار بھی جماع کرے اور آزاد عورت جب حاملہ ہو تو اس کے ساتھ جماع برداشت کی حد تک ہو سکتا ہے۔ اس میں جواز ہے لیکن اعتراض یہ ہے کہ مشکوٰۃ جلد ثانی باب استبراء رحم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’غیلہ‘‘ سے منع فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ یہ غیر کی کھیتی کو پانی پلانے والی بات ہے۔ حالانکہ زمین کو پانی ملنے سے فائدہ ہوتا ہے۔اس لونڈی کو تو رحم میں کوئی فائدہ نہیں ۔ مشبہ ، مشبہ بہ کے موافق ہی نہیں تو یہ آزاد عورت حاملہ ہو تو اجازت اور اسی طرح لونڈی کے لیے ممنوع اور علت (سَقِیَ الْمَائَ زَرْعَ غَیْرِہٖ)حالانکہ معلول لہ میں معلول علیہ والی علت ہے ہی نہیں۔(احسان اللہ فاروقی۔ ڈیرہ غازی خان) (26 مارچ 1999ء) جواب۔ بلاریب حمل جب ٹھہرتا ہے تو اس کااستقرار ایک محفوظ مقام پر ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں ہے: (اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآئٍ مَّہِیْنٍ o فَجَعَلْنٰہُ فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ o اِِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ o فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ o) (مرسلات:20۔ 23) ”کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے نہیں بنایا(پہلے) اس کو ایک محفوظ جگہ میں ایک معین وقت تک رکھا پھر اندازہ مقرر کیا۔ اور ہم کیا ہی خوب اندازہ مقرر کرنے والے ہیں۔‘‘ اس کے باوجود اجسام میںوطی کے اثرات کا ظہور پذیر ہونا ایک طبعی امر ہے۔ اس کے کم از کم نفسیاتی تاثیر سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اہل تجارب کے ہاں یہ بات مشہور و معروف ہے ۔ جماع کا اثر خواہ بچہ کی تخلیق پر ہو یا نشوونما اور غذا وغیرہ میں سے جونسی بھی صورت ہو ،کسی نہ کسی نوع کی تاثیر کا امکان موجود ہے۔ حدیث (سَقَیُ الْمَائَ زَرْعَ غَیْرِہٖ)میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ اس طرح مشبہ اور مشبہ بہٖ یعنی ولد اور زرع میں مطابقت پیدا ہو جاتی ہے اس امر کی