کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 643
اس توضیح و تشریح سے معلوم ہوا کہ اصلاً دل ہی چشمۂ ظہورِ عقل و فہم ہے۔ اور من وجہ اس کا تعلق دماغ سے بھی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا قرآن نے اصل کے اعتبار سے فہم و تدبر کی نسبت دل کی طرف کی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقٰی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ) (قٓ:37) اورعلامہ فخر الدین رازی سوال نمبر۴ کا عنوان قائم کرکے فرماتے ہیں: ( ہَلْ تَدُلُّ الآیَۃُ عَلٰی اَنَّ الْعَقْلَ ہُوَ الْعِلْمُ وَ عَلٰی اَنَّ مَحَلَّ الْعِلْمَ ہُوَ الْقَلْبُ؟) ”کیا آیت اس بات پر دال ہے کہ عقل سے مراد یہاں علم ہے اوراس بات پر بھی کہ علم کا محل دل ہے؟‘‘ جواباً فرماتے ہیں، ہاں اس لیے کہ اللہ کے قول (قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِہَآ) سے مقصود علم ہے اور اللہ کا قول (یَّعْقِلُوْنَ بِہَآ) مثل دلیل کے ہے کہ قلب آلہ فہم و ادراک ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ دل محل عقل و فہم ہے۔[1] نیز مفسر قرآن مولانا امیر علی فرماتے ہیں: بعض نے لکھا ہے آیت میں قلوب کی طرف سمجھنے کی نسبت فرمائی۔ بقولہ (یَّعْقِلُوْنَ بِہَآ) یعنی ان قلوب سے سمجھتے تو یہ نسبت اس وجہ سے ہے کہ عقل کا محل قلب ہے جیسے سننے کا محل کان۔[2] اور جن متجدّدین اور فلاسفہ نے عقل کا ابتدائی اور استقراری تعلق صرف دماغ سے تسلیم کیا ہے وہ سعی موہومہ اور تحصیل لاحاصل کا شکار ہیں ۔ خواہ مخواہ اپنی کمزور عقل کے سہارے تاویلاتِ باطلہ پر اعتماد کرکے منصب ِ نبوت کو بھلا بیٹھنا اچھی بات نہیں۔ دراں حالیکہ صحیح عقل ہر لمحہ نبوت کی روشنی کی محتاج ہے۔والتوفیق بید اللہ۔ کتاب و سنت سے قطعاً اس نظریہ کی تائید نہیں ہوتی بلکہ یہ واضح نصوص کے برعکس ہے۔ ایک حدیث میں وارد ہے : ( إِنَّ اللّٰهَ جَعَلَ الحَقَّ عَلَی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہِ )[3] ”یعنی اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کردیا ہے۔‘‘ حدیث ہذا سے بھی معلوم ہوا کہ اصل منبع تعقّل دل ہے۔ یاد رہے اس مسئلہ میں مولانا مودودی مرحوم سے لغزش ہوئی ہے انھوں نے اس قسم کے کلام کو محض ادبی اسلوب اور تخیل قرار دے کر ٹال دیا ہے اور کہا ہے کہ قرآن سائنس کی زبان میں نہیں بلکہ ادب کی زبان میں کلام کرتا ہے گویا اس میں مسلمہ امر کا افکار ہے جس کی مزید تشریح و تفسیر محتاجِ بیان نہیں۔ ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، ج:1،ص:236۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف ایک کے مسلمان ہونے کے لیے دعا کرنے کا مطلب؟ سوال۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی:(اَللّٰہُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اَوْ بَعَمْرِو بْنِ ہِشَامٍ)[4]