کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 629
کرتے ہیں۔[1] نیز شرح ’’معانی الآثار‘‘ میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں(اہل بیت کو) دوسروں سے تین باتوں میں ممتاز بتایا۔ اسباغ الوضوء( اچھی طرح سے وضوء کرنا) صدقہ کا مال نہ کھانا اور گھوڑی اور گدھے کے درمیان جفتی نہ کرانا۔ علامہ عظیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان کا جواب تین طریقے سے دیا گیا ہے۔ اولاً: یہ کہ علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ممانعت نہیں آئی ہے۔ بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ کرتے ہیں جوبے خبر ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو بے علم اور جاہل ہیں اوریہ کہ یہ کام اہل علم اور سادات کا نہیں کہ وہ اس کام میں وقت صرف کریں۔ اس معنی میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کی روایت بیان ہوئی ہے۔ یعنی یہ ممانعت کا حکم صرف ہاشمیوں کے ساتھ خاص ہے۔ دوسرے تمام لوگ اس حکم میں شامل نہیں یعنی انھیں رخصت ہے۔ اہل بیت کو صرف تین چیزوں میں دوسروں سے ممتاز کیا گیا ہے۔ ایک اسباغ الوضوء، یعنی ہر عضو کو تین بار ضرور دھوئیں جب کہ دوسرے (غیر ہاشمی) اگر ایک ایک دو دو بار بھی دھولیں تو مضائقہ نہیں۔ دوسرے یہ کہ صدقہ نہیں کھاتے اورگھوڑے گدھے میں جفتی نہیں کراتے۔ یہ حکم ہاشمیوں کے لیے ان کے شرفِ شان کی وجہ سے ہے کسی معصیت کی وجہ سے یہ تخصیص نہیں۔ اگر اس میں معصیت کو دخل ہوتا تو ہاشمیوں کی تخصیص نہ ہوتی کہ اوامر و نواہی میں امت محمدیہ برابر ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ گھوڑے اور گدھے کی جفتی کرانا اور اسباغ الوضوء نہ کرنا ہاشمیوں کی علوِ شان کے خلاف ہے۔ غیر ہاشمی اس حکم سے الگ ہیں۔ ہاشمیوں کے لیے ان تینوں باتوں کا حکم ان کی شان کی وجہ سے باقی ہے اور یہی ہمارا مدعا ہے۔ ثانیاً : یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول ’’ یہ کام وہ کرتے ہیں جو بے علم ہیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جو یہ کام کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ گھوڑوں کے استعمال میں کتنا اجر ہے۔ جو خچروں وغیرہ کے استعمال میں نہیں اگر انھیں اس کے صحیح اجر کا پتہ ہوتا تو کبھی بھی خچروں کی طرف راغب نہ ہوتے۔ گھوڑوں سے لگاؤ اور اس سے رغبت سے متعلق بہ کثرت حدیثیں آئی ہیں۔ ان میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنھما کی یہ دو حدیثیں بڑی مشہورمیں جو صحاح ستہ میں موجود ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھوڑوں سے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تین طرح کے لوگوں کے لیے ہیں کسی کے لیے باعث اجر ہیں اور کسی کے لیے باعث ِزینت اور کسی کے لیے وبالِ جان اور ہلاکت خیز۔ پھر لوگوں نے گدھے سے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گدھے کے فائدے سے متعلق۔ اس آیت کے علاوہ مجھ پر اور کچھ نازل نہیں ہوا: (فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ o وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ) (جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی وہ اس کا اجر پائے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی برائی کی اسے بھی دیکھے گا) [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ صِفَۃِ أَبْوَابِ الجَنَّۃِ،رقم:3257