کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 625
ڈائجسٹوں میں موجود جھوٹی کہانیوں کا پڑھنا جائز ہے ؟ سوال۔ کیا جھوٹی کہانیاں(جو کہ مختلف ڈائجسٹوں وغیرہ میں شائع ہوتی ہیں۔ پڑھنا جائز ہے کہ نہیں) ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں۔ (آپ کا شاگرد ۔ آصف احسان ملک۔ گل بہار کالونی فیصل آباد)(4اکتوبر 1996ء) جواب۔ جھوٹے قصے کہانیاں،افسانے، ڈرامہ، ناول اور جنسی اور سنسنی خیز لٹریچر رسالے اور بے حیائی کے پرچارک اخبارات اور جدید ترین ایجادات، ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، ویڈیو فلمیں وغیرہ سے بے راہ روی کا درس لینا اپنی عاقبت کو خراب کرنا ہے۔ قرآن مجید میں ہے: (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ} (لقمان:6) ”اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں کہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔‘‘ قرآنی لفظ لھو الحدیث میں مذکورہ بالا سب چیزیں داخل ہیں۔ ’’سیرۃ ابن ہشام‘‘ وغیرہ میں موجود ہے کہ نضر بن حارث کا کاروبار یہی تھا کہ وہ مکہ سے عراق و فارس وغیرہ جاتا۔ وہاں سے شاہانِ عجم کے قصے اور رستم و اسفند یار کی داستانیں لاکر قصہ گوئی کی محفلیں جماتا۔ تاکہ لوگوں کی توجہ قرآن سے ہٹ جائے اور وہ قصے کہانیوں میں کھو جائیں۔ مسئلہ ہذا پر سیر حاصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو:تفہیم القرآن (4/8، مولانا مودودی) معلوماتِ عامہ کے لیے قصے، کہانیاں ،ڈائجسٹ وغیرہ پڑھنے کا حکم؟ سوال۔ اگر کوئی شخص فارغ اوقات میں ایسی کہانیاں پڑھے جو فحاشی اور عریانی سے پاک ہوں لیکن ان کے پڑھنے سے معلوماتِ عامہ میں اضافہ ہو تو کیا یہ جائز ہے ؟ (محمد مسعودP.P، کوٹلی، آزاد کشمیر)(29دسمبر2000ء) جواب۔ صحیح شرعی علوم میں اضافے کا باعث بننے والی کہانیاں پڑھنا جائز ہے۔ بالخصوص مجاہدینِ اسلام کے واقعات جن سے جذبۂ جہاد پیدا ہو۔ یا زہد و تقویٰ وغیرہ پر مشتمل واقعات تاکہ آخرت کا صحیح تصور پیدا ہو۔ کیا شاعری اشعار پڑھنا جائز ہے ؟ سوال۔ کیا شاعری کرنا یا اشعار پڑھنا جائز ہے؟ ہمارے ہاں میٹرک سے ایف اے تک کے اُردو نصاب میں جو شاعری ہے ، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (محمد مسعودP.P، کوٹلی، آزاد کشمیر)(29دسمبر2000ء) [1] ۔ فتح الباری ،ج:9،ص:309 [2] ۔ صحیح مسلم،بَابُ حُکْمِ الْعَزْلِ، رقم:1439،سنن أبی داؤد،بَابُ مَا جَاء َ فِی الْعَزْلِ،رقم: 2173