کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 620
برتھ کنٹرول کے لیے عزل کرنا سوال۔ بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی وجہ سے برتھ کنٹرول کی کونسی صورت جائز ہے۔ اپریشن ، انجکشن یا مرد کا عزل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (30 دسمبر 1994ء) جواب۔ اچھی تربیت سے مقصود اگر کم بچے ہیں ۔ تو یہ درست نہیں کیونکہ احادیث میں تکثیر اولاد کی ترغیب ہے۔ بوقت ضرورت فعل عزل مع الکراہت درست ہے۔ دوسری ذکر کردہ صورتوں سے اقرب معلوم ہوتی ہے۔ عزل کی تعریف: (النَّزْعُ بَعْدَ الْإِیلَاجِ لِیُنْزِلَ خَارِجَ الْفَرْجِ)[1] تصوف کی حقیقت کیا ہے؟ سوال۔ تصوف کے بارے میں اختصار سے بتائیے کہ یہ کیا ہے ؟(عبدالوحید۔ راولپنڈی)(5ستمبر 1997ء) جواب۔ تصوف دراصل فلسفہ ہی کی ایک شکل ہے اور ایسے عقیدے کا نام ہے جس سے امورِ غیبیہ کا دل پر کشف ہوتا ہے۔ اس کا تعلق حضرات انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات سے بالکل نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں صوفیاء کا نقطۂ نظریہ ہے کہ ہم براہِ راست اللہ سے یا براہِ راست اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بصورتِ کشف علوم حاصل کرتے ہیں۔ اور ہم اس حقیقت کو چھپانا گناہ سمجھتے ہیں کہ کائنات میں صرف اللہ کا وجود ہے۔ اس لحاظ سے ہر انسان اللہ ہے۔ اور اللہ انسان ہے۔ بلکہ حقیقت میں تمام ایک ہیں۔ البتہ صورتوں کے لحاظ سے فرق ہے۔ وہ برملا اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ غیبی علم کے حصول کے لیے کشف ہی ایک راستہ ہے جس میں مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔ مجاہدہ کی بے شمار صورتیں ہیں۔ جو بلحاظ وقت ،جگہ ، اشخاص کے تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ البتہ نفس کو اذیتوں سے ہمکنار رکھنا معینہ وردووظائف کا بار بار کرنا لوگوں سے اختلاط نہ کرنا ، بالکل الگ تھلگ رہنا، اور پاکیزگی کا خیال نہ کرنا لازمی امور ہیں۔ البتہ اتنی بات ذہن نشین کر لیجیے، ضروری نہیں کہ جو انسان تصوف کی طرف منسوب ہے۔ا س کا عقیدہ بعینہٖ وہی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ ہاں وہ شخص جو تصوف کے آخری مرحلہ پر پہنچ چکا ہے ۔ اس کا عقیدہ واقعی یہی ہوتا ہے۔ اور جو صوفی ابھی تصوف کے مراحل طے کر رہا ہے اور آخری مرحلہ تک رسائی حاصل نہیں کر سکا ہے تو وہ جہاں تک پہنچا ہے، اسے بس اتنی ہی خبر ہے وہ آخری مراحل سے بے خبر ہے۔ اگر وہ ہمارے بیان کردہ عقیدے کا انکار کر رہا ہے۔ تو ہم اسے معذور سمجھتے ہیں، اس لیے کہ ابھی وہ اس مقام سے ناآشنا ہے جہاں صوفی کی آخری منزل ہے۔(افکارِ صوفیہ، مترجم:18) [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَمْ یُفْطِرْ عِنْدَہُمْ،رقم:1982 [2] ۔ صحیح البخاری،بَابُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَمْ یُفْطِرْ عِنْدَہُمْ،رقم:1982