کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 616
موقوف ہے۔ ویسے اصحابِ تجارب کا کہنا ہے کہ عمل ہذا متنوع امراض کو جنم دیتا ہے۔ (وَاللّٰہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی اَعْلَمُ بِصِحَّتِہٖ) فعل ہذا عزل کی طرح ہے لیکن عزل سے سابقہ شکوک و شبہات جنم نہیں لیتے ما سوائے اس کے لذت جماع میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ مسئلہ عزل پر وارد اشکالات کا ازالہ محترم جناب حافظ ثناء اللہ مدنی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ”الاعتصام‘‘ مورخہ یکم جولائی 1994ء میں عزل کے متعلق آپ کا فتویٰ شائع ہوا۔ غالباً اس سے قبل بھی آپ اس مسئلہ پر اپنی رائے کا اظہار فرما چکے ہیں تاہم میرے ذہن میں کچھ خلش ہے جسے دور فرما کر عند اللہ مأجور ہوں۔ {وَ اللّٰہُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ } (الاحزاب:53) سوال۔ زید نے اپنی رفیقۂ حیات سے عزل کے بارے میں بات کی۔ اس نے زید سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ مانع حمل اور ممنوع فعل ہے۔ زید کہنے لگا یہ جائز ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا فرمان ہے کہ نزولِ قرآن کے دَور میں ہم عزل کیا کرتے تھے۔ زید کا خیال تھا کہ اگر یہ فعل ناجائز ہوتا تو آسمان سے اس کے متعلق کوئی نہ کوئی حکم ضرور نازل ہوتا ۔ یہ سن کر اس کی اہلیہ کہنے لگی کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد گرامی ہے کہ عزل خفیہ طور پر قتل ِ اولاد ہے۔ ممکن ہے صحابہ رضی اللہ عنھم کا فرمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ممانعت سے پہلے کے دور سے متعلق ہو لہٰذا جب تک تم واضح طور پر اس کو جائز اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تنسیخ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی دوسرے فرمان سے ثابت نہیں کرو گے میں نہیں مانوں گی۔ کیونکہ فرمانِ الٰہی ہے: ( قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَہُمْ سَفَہًا بِغَیْرِ عِلْمٍ) (الانعام:140) ”گھاٹا پا گئے وہ لوگ جنھوں نے نادانستہ طور پر اپنی اولاد کوقتل کیا۔‘‘ زید نے اپنی بیوی کو اس کی بیماری کی طرف متوجہ کرکے عزل کا جواز پیش کرتے ہوئے کہاڈاکٹروں کے بقول بچے کی پیدائش تمہارے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر وہ کہتی ہے کہ میں اپنی جان کی خاطر دوسری جان کا حق ِ زندگی تلف کرکے کیوں اُخروی ناکامی مول لے لوں تم چاہو تو عقد ثانی کرلو۔ زید جو صاحب عیال ہے اور کسی بھی صورت عقد ثانی کا خواہشمند نہیں۔ نہ ہی اسے صرف ایک خاص وجہ سے پسند کرتا ہے لِقَوْلِہٖ تَعَالیٰ(غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ )کیونکہ اس کے خیال میں باوجود کوشش کے انصاف کا دامن اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور عذابِ الٰہی کا مستوجب ٹھہرے گا۔ اندریں حالات شرعِ متین کی روشنی میں بتائیے کہ زید اور اس کی زوجہ میں کس کا نظریہ درست اور راجح ہے تاکہ دارین کی زندگانی سے بھرپور انداز میں لطف اندوز بھی ہو سکیں۔ اور آخرت میں عتابِ الٰہی سے بالکل محفوظ رہیں۔ [1] ۔ سنن ابن ماجہ،بَابٌ فِی النَّہْیِ عَنْ کَسْرِ عِظَامِ الْمَیِّتِ ،رقم:1616 سنن ابی داؤد،بَابٌ فِی الْحَفَّارِ یَجِدُ الْعَظْمَ ہَلْ یَتَنَکَّبُ ذَلِکَ الْمَکَانَ؟،رقم:3207