کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 610
جواب۔ انسانی اعضاء اللہ کی امانت ہیں۔ انسان کو ان میں تصرف کا اختیار نہیں۔ اسی بناء پر خودکشی حرام ہے۔ اعضاء کی منتقلی سے دوسرے کو فائدہ پہنچانا غیرد رست ہے کیونکہ میت کو گزند پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔ یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر بیٹھے تکیہ لگانے سے منع فرمایا ہے۔ اس سے میت کا احترام مقصود ہے۔ ایک حدیث میں ہے: ( کَسْرُ عَظْمِ الْمَیِّتِ کَکَسْرِہِ حَیًّا) [1] یعنی گناہ میں میت کی ہڈی توڑنا اس طرح ہے جس طرح زندہ کی توڑنا ہے۔‘‘ ابوداؤد، ابن ماجہ۔ ابن القطاع نے کہا اس کی سند حسن درجہ کی ہے۔ ایک مسلمان کا مرنے سے پہلے اعضاء کے وقف کی وصیت کر جانا سوال۔ ایک مسلمان انسان مرنے سے قبل وصیت کر جائے کہ مرنے کے بعد اُس کے اعضاء کسی اور کو لگا دیے جائیں تو کیا یہ شرعاً درست ہے؟ (شیخ محمد محسن علی ، کراچی) (21مئی 1999ء) جواب۔ مرنے کے بعد اپنے اعضاء کی کسی دوسرے کے لیے وصیت کرنادرست نہیں۔ کیوں کہ انسانی بدن اللہ کی امانت ہے بندے کی مِلک نہیں۔ اسی بناء پر تو خودکشی کو جرم قرار دیا گیاہے۔ پوسٹ مارٹم کا شرعی حکم کیا ہے ؟ سوال۔ ایک حدیث سن اور پڑھ رکھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مردے کو تکلیف پہنچانا اس طرح ہے جس طرح زندہ کوتکلیف پہنچانا ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں اچانک موت یا مقتول کے قتل کی نوعیت کو جانچنے کے لیے میت کے پوسٹ مارٹم کا شرعی حکم کیا ہے ؟ ( عطا محمد جنجوعہ سرگودھا) (20جون 2003ء) جواب۔ مردے کو ایذاء دینا واقعتاً درست نہیں بلکہ یہ اس کی توہین ہے اور اسلام مردوں کی اہانت سے منع کرتا ہے۔ البتہ ناحق مقتول یا مشتبہ میت کا پوسٹ مارٹم کرنا جائز ہے۔ کیونکہ یہ تفتیش جرائم کے تحت آتا ہے۔ اس سے اس امر کی تحقیق مقصود ہوتی ہے کہ ملزم کو ناجائز سزا تو نہیں مل رہی یا کسی نے سازش سے قتل کرکے اس کو خود کشی تو ظاہر نہیں کردیا، مقصدِ اعلیٰ کے پیش نظر عام ایذا رسانی کی ممانعت سے یہ استثنائی شکل ہے۔ کیا مطب کا نام سلفی دواخانہ یا شفاخانہ درست ہے ؟ سوال۔ ایک حکیم صاحب اپنے مطب کا نام سلفی شفا خانہ رکھے ہوئے ہیں جب کہ کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ سلفی [1] ۔ سنن الترمذی، و قال حدیث حسن صحیح، ،رقم:2516، عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی ،رقم:425 [2] ۔ مسند احمد،رقم:2803،المعجم الکبیر للطبرانی،رقم:11243