کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 61
اور احادیث صحیحہ ہیں اور ان کو سمجھنے کے لیے کسی بھی فقہی کتاب کی ضرورت نہیں، البتہ صحابۂ کرام کا منہج اور ان کی تعبیرات کی پابندی ضروری ہے ۔ 5۔ ائمۂ کرام میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ ان کی بات حرفِ آخر ہے بلکہ اس کے برعکس انھوں نے یہ کہا ہے کہ ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ اس لیے انھوں نے اس امر کی بھی تاکید کی ہے کہ ان کے قول کے مقابلے میں صحیح حدیث آجائے، تو ہماری بات کو چھوڑ دینا اور حدیث پر عمل کرنا ۔ علاوہ ازیں خود ان کا بھی کئی باتوں میں رجوع ثابت ہے۔ اور بعض مسائل میں ان کے شاگردوں کی بھی یہ صراحت موجود ہے کہ یہ حدیث ہمارے استاد اور امام کے سامنے نہیں تھی، اس لیے انھوں نے اس کے برعکس رائے اختیار کی اگر انھیں یہ حدیث مل جاتی ، تو وہ یقینا اپنی رائے سے رجوع کر لیتے۔ ائمہ کے دور میں احادیث کی جمع و تدوین اور ان کی جانچ پرکھ کا وہ کام نہیں ہوا تھا جو کتب ستہ اور دیگر کتابوں کے مؤلفین نے کیا، اس لیے ان کے سامنے بطورِ خاص اِمام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے احادیث کے یہ مجموعے نہیں تھے، اس لیے وہ تو اپنی غلطی پر معذور بلکہ مأجور ہی ہوں گے۔ لیکن احادیث صحیحہ کے مجموعے مرتب و مدوَّن ہوجانے کے بعد، حدیث کے مقابلے میں ، کسی فقہی رائے پر اصرار کرنے اور مختلف انداز سے حدیثوں کو مسترد کرنے کا کیا جواز ہے؟ 6۔ ان ائمہ کے شاگردانِ رشید نے بہت سے مسائل میں اپنے امام اور استاذ سے اختلاف کیا ہے۔ قاضی ابویوسف اور امام محمد دونوں اِمام ابوحنیفہ کے سب سے اہم شاگرد ہیں۔ انھوں نے اپنے امام سے فروع ہی میں نہیں، اصول میں بھی اختلاف کیا ہے۔ اور اختلاف بھی چند ایک مسائل ہی میں نہیں بلکہ دو تہائی مسائل میں کیا ہے۔اگر وہ امام صاحب سے اتنے اختلاف کے باوجود مقلد کے مقلد ہی ہیں، تو بعد کے لوگ بھی اگر دلائل کی بنیاد پر ایسا کریں گے، تو اسے کون غیر معقول یا اِمام کے مذہب سے خروج قرار دے سکتا ہے؟ اس اختلاف کی اور بھی کئی مثالیں ہیں۔ ان میں ایک اور نہایت نمایاں مثال مولانا عبدالحئی لکھنوی حنفی کی ہے۔ انھوں نے فقہ کے مقابلے میں احادیث کو ترجیح دیتے ہوئے بیسیوں مسائل میں محدثین کے مسلک کو راجح قرار دے کر انھیں اختیار کیا ہے جس کی تفصیل ہمارے فاضل دوست مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ (فیصل آباد) کی تالیف’’مسلک احناف اور مولانا عبدالحئی لکھنوی‘‘ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ بلکہ مولانا اشرف علی تھانوی اوران کے ہم عصر علمائے دیوبند نے بھی زوجۂ مفقود الخبر اور بعض دیگر صورتوں میں فقہ حنفی کوچھوڑ کر فقہ مالکی کی رائے کو اختیار کیا ہے۔(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، الحیلۃ الناجزۃ ، تالیف مولانا اشرف علی تھانوی) بلکہ اس کتاب کے نئے ایڈیشن میں حرفِ آغاز کے عنوان سے مولانا تقی عثمانی صاحب کا دیباچہ ہے، اس میں