کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 607
آئے تو عمرین (عمر خطاب رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ ) کے مثالی نظامِ حکومت کا مطالعہ کیجیے۔ یہ جھلک آپ کو بڑی واضح نظر آئے گی۔ قصہ بیعت الرضوان سے مروّجہ طریق احتجاج پر استدلال کرنا جہالت اور لاعلمی پر مبنی ہے۔ نعوذ باللہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیعت کے انعقاد سے کافروں سے احتجاج کیا تھا؟ جو عقلاً نقلا ً غیر معقول اور آپ کی شان سے بہت فروتر ہے۔ یہ بیعت تو اس عہد ِ وفاداری کی تجدید تھی جو بندوں نے اپنے اللہ سے کر رکھا تھا۔ اس کا مخلوق کے ساتھ کوئی تعلق نہیں؟ مقامِ غوروفکر ہے کہ اس سے مروّجہ طریق احتجاج کا جواز کیسے نکل آیا؟ اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے امور کا ارتکاب دراصل خواہشات کے پجاریوں کی سنن کا احیاء ہے اور یہ وہاں ہوگا جہاں عدل و انصاف کی بجائے ظلم و ستم کا دَور دورہ ہو گا۔ اللہ رب العزت ہم سب کو صراطِ مستقیم پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔ مناظرے یا مباہلے میں زہر پینے کی شرط سوال۔ محترمی مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک عیسائی نے مجھے خط لکھا ہے کہ ’’ یہ کھلا خط آپ سے اور عالم اسلام سے ہے کہ میں زہر کا جام پینے کو تیار ہوں اور زہر کا دوسرا جام آپ کے ہاتھوں میں ہو۔ ہم دونوں اس کو مل کر پئیں جو سچ پر قائم وہ بچ جائے گا۔‘‘ آپ کی خدمت میں درخواست ہے کہ اس سلسلے میں ایک مسلمان کی شرعی پوزیشن باوضاحتِ تمام تحریر فرمادیں۔ ( محمد اسلم رانا ، ایڈیٹر ماہنامہ المذاہب) (1 جون2001ء) جواب۔ پہلے آپ اس شخص کو حکمت و دانائی سے دعوتِ اسلام پیش کریں، بصورتِ دیگر دعوتِ مباہلہ دے سکتے ہیں۔ جس طرح کہ بالتصریح قرآن میں موجود ہے۔ اور جہاں تک زہر پینے کا تعلق ہے کسی حد تک جواز تو ہے لیکن یہ فیصلہ انتہائی غوروخوض اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کرنا چاہیے۔ ممکن ہے اس ادعاء کے پیچھے کوئی سازش کارفرما ہو۔ (وَاللّٰہُ مُحِیْطٌ بِالْکٰفِرِیْنَ)(البقرۃ:19) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فتح الباری:10/246 جسمانی اعضا اور خون کے عطیے کا حکم سوال۔ جسم ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے کیا کسی کو خون، گردہ، آنکھ یا جسم کا کوئی بھی حصہ عطیہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر پاس کوئی مرر ہا ہو تو کیااس کو خون دینا چاہیے یا نہیں؟(سائل اصغر محمود) (7 اکتوبر1994ء) جواب۔ بنی نوع انسان کے لیے اپنے جسم میں ایسا تصرف جس سے انسانی زندگی کا ضیاع لازم آتا ہو یہ تو قطعاً ممنوع ہے جیسے خودکشی وغیرہ اور اگر اس کی اصلاح کی خاطر آپریشن کے مراحل سے بھی گزرنا پڑے تو سبھی جواز کے قائل ہیں۔ [1] ۔ المفردات ، کتاب الیائ،ص:550 [2] ۔صحیح البخاری،بَابُ مَنْ خَصَّ بِالعِلْمِ قَوْمًا دُونَ قَوْمٍ، کَرَاہِیَۃَ أَنْ لاَ یَفْہَمُوا،رقم: 128، مشکوٰۃ کتاب الایمان ،حدیث:25 [3] ۔فتح الباری:1/408