کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 598
کے حاملین نے نکالی ہے۔ تحریر میں بسم اللہ لکھنا بے ادبی نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرقل مشرک کا فر کی طرف مرسلہ چٹھی میں بسم اللہ تحریر نہ فرماتے۔ چٹھی میں بسم اللہ لکھنا بھی گویا دعوت کا ایک اہم حصہ ہے جب کہ 786عددیکسر اس سے خالی ہے۔ گرتے بالوں اور پاؤں کی ٹیڑھی ہڈی کا علاج: سوال۔ (۱)سر کے بال گرنے کا علاج حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا بتایا؟ (2) دائیں پاؤں کی ہڈی کو سیدھا کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ تاریخ پیدائش 1978۔ 12۔ 15 عمر تقریباً 18 سال کے قریب ہے۔ پاؤں کا آپریشن تقریباً ایک سال کی عمر میں کروایا تھا۔ لیکن تھوڑی ہڈی ٹیڑھی رہ گئی اور بال تقریباً 30۔ 25 روزانہ گر جاتے ہیں۔(محمد زاہد۔ سول لائن۔ خانیوال 21 مارچ 1997ء) جواب۔ اپنے دونوں سوالوں کا مشترکہ جواب ملاحظہ فرمائیں۔ موطا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ میں زید بن اسلم کی روایت منقول ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں ایک شخص کو زخم آ گیا اور اس زخم سے خون بہنے لگا۔ اس نے بنی انمار کے دو آدمیوں کو بلوایا۔ انھوں نے مریض کو دیکھا تو انھوں نے سمجھا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا ہے کہ ان میں فنِ طب میں کون زیادہ ماہر ہے۔ اس نے دریافت کیا: یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کیا طب میں خیر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس اﷲ نے بیماری نازل کی ہے اس نے اس کی دوا بھی نازل کی ہے۔ لیکن سند کے اعتبار سے مَرسل ہے۔ دوسری روایت میں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طبیب کو بلا کر اسے دکھاؤ۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم آپ یہ فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اﷲ نے کوئی بیماری نہیں پیدا کی مگر اس کی دوا بھی ساتھ ہی نازل فرمائی۔ (زاد المعاد) بخاری اور مسلم میں مرفوعاً روایت ہے۔ ’’اﷲ نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں کی جس کی شفاء نہ پیدا کی ہو۔‘‘ [1] اور ایک روایت میں الفاظ یوں ہیں ’’اﷲ نے کوئی بیماری پیدا نہیں کی مگر اس کی دوا بھی وہیں رکھ دی۔‘‘ (زاد المعاد) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ہر علم و صنعت میں اس کے سب سے زیادہ ماہر سے رجوع کرنا چاہیے۔ لہٰذا میرا مشورہ ہے سر کے بالوں کے سلسلہ میں ماہر جلد کی طرف رجوع کریں اور پاؤں کی ہڈی طبیب حاذق سے مشورہ کریں۔ اس کے ساتھ روحانی علاج بھی جاری رہنا چاہیے۔ چنانچہ’’صحیح مسلم‘‘میں حدیث ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کو