کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 591
جب کہ مذہب اور عقیدہ کا تعلق براہِ راست خالقِ کون سے ہوتا ہے۔اس میں وارد جملہ حقائق پر ایمان لانا ایمانیات کا اہم جز ہے۔ چاہے وہ بشری عقول کے تحت ہوں یا اس کے ماوراء ۔ بہر صورت آسمان کا وجود ذی جرم شکل میں نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہے اس کا انکار ایک مومن کے لیے ناممکنات سے ہے بلکہ اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ یاد رہے شریعت نے اس بات کا تعین نہیں کیا کہ صرف نیلے رنگ کا نام آسمان ہے۔ قرآن میں ہے: (فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ) (الرحمٰن:37) ”پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی تلچھٹ کی طرح گلابی ہو جائے گا (تو) وہ کیسا ہولناک دن ہو گا۔‘‘ غیر مسلموں کو قرآن کا تحفہ دینا سوال۔ کیا غیر مسلم کو قرآن مجید برائے تحفہ دیا جا سکتا ہے؟( عبدالحمید ۔قصور) (27 جولائی 2001ء) جواب۔ کافر کو بطورِ تحفہ قرآنِ مجید پیش نہیں کرنا چاہیے ۔’’صحیح بخاری‘‘میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ: (أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صلي اللّٰه عليه وسلم نَہَی أَنْ یُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَی أَرْضِ الْعَدُوِّ) [1] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ دشمن کی سرزمین میں قرآن کے ساتھ سفر کیا جائے۔‘‘ ”سنن ابن ماجہ‘‘ میں عبدالرحمن بن مہدی کے طریق سے مالک سے یہ زائد الفاظ بھی منقول ہیں کہ (مَخَافَۃَ اَنْ یَّنَالَہُ الْعَدُوُّ) ’’اس ڈر سے کہ دشمن قرآن کی توہین نہ کرے۔‘‘ جب کہ’’صحیح مسلم‘‘میں ایوب کے طریق سے زائد الفاظ یوں ہیں: (فَاِنِّیْ لَا اٰمَنُ اَنْ یَّنَالَہُ الْعَدُوّ) مجھے تسلی نہیں کہ دشمن قرآن کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘‘اس سے معلوم ہوا کہ کوئی صورت ایسی نہیں اختیار کرنی چاہیے جس سے قرآن کا اَدب و احترام مجروح ہونے کا خدشہ ہو۔ ہاں البتہ بطورِ دعوت و تبلیغ کافر کو ایک دو آیات لکھ کر بھیج دی جائیں تو قصۂ ہرقل کی بناء پر جائز ہے، یا کفار کو قرآن سنایا جائے تو یہ دینی فرض کی ادائیگی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ } (التوبۃ:6) ”اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دے دو یہاں تک کہ کلام اللہ سننے لگے۔‘‘ لیکن اس کے ہاتھ میں قرآن نہ پکڑایا جائے۔ غیر مسلموں کے لیے رحم کی دعا کرنا سوال۔ کسی غیر مسلم کو تکلیف میں دیکھ کر اس کے لیے رحم کی دعا کرسکتے ہیں یا نہیں؟ (ام کلثوم۔ لاہوتی) (16۔ اگست 2002ء) [1] ۔ فتح الباری:12/143