کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 579
غمگیں کریں تجھے وہ لوگ جو کفر میں جلدی کرتے ہیں۔‘‘ دوسرا باب حَزَنَ یَحْزُنُ بروزن سَمِعَ یَسْمَعُ یہ لازم ہے۔ اس کے معنی غمگین ہونے کے ہیں۔ اس آیت میں یہی مراد ہے ۔ اس ساری بحث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین تسلیم کیے بغیر کوئی عمل قابلِ قبول نہیں اور عیسائیوں کے اعمال بھی قابلِ قبول نہیں۔ جب تک آپ کی نبوت کا اقرار نہیں کرتے۔ کتاب و سنت کی نصوص اس امر پر واضح شواہد ہیں۔ قرآن میں ہے: {وَّوَجَدَ اللّٰہَ عِنْدَہٗ فَوَفّٰہُ حِسَابَہٗ } (النور: 39) ’’صحیح مسلم‘‘ میں ہے۔ کافر کے لیے اعمالِ خیر کی صرف دنیا میں جزا ہے۔ آخرت میں نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب قصہ ہاروت و ماروت کی قرآن کی روشنی میں وضاحت سوال۔ قصہ ہاروت و ماروت کی قرآن کی روشنی میں وضاحت فرمائیے۔(سائل)(19 فروری 1999ء) جواب۔ اللہ رب العزت نے سورہ بقرہ کی آیت 102کے ضمن میں بایں الفاظ بیان فرمایا ہے: (وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوْا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ وَ مَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ وَ مَآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ہَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حتّٰی یَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْہُمَا مَا یُفَرِّقُونَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ زَوْجِہٖ وَ مَا ہُمْ بِضَآرِّیْنَ بِہٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّہُمْ وَ لَا یَنْفَعُہُمْ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰ ہُ مَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَہُمْ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ) (البقرۃ:102) ”اور وہ ان(ہزالیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان علیہ السلام کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان علیہ السلام نے مطلق کفر کی بات نہیں کی بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور ان باتوں کے بھی(پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہ) آزمائش ہیں تم کفر میں نہ پڑو۔ بعض لوگ ان سے ایسا(جادو) سیکھتے جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں ۔ اور اللہ کے حکم کے سوا وہ اس(جادو) سے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں(یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا ۔ اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور جس چیز کے عوض انھوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا وہ بری تھی۔ کاش وہ(اس بات کو) جانتے۔‘‘ [1] ۔ تفہیم القرآن، 3/161