کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 576
والا اور حکمت والا ہے۔‘‘ واضح ہو کہ اس مقام پر ایک واقعہ قصہ الغرانیق کے نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قصہ ناقابلِ اعتماد ہے۔ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے نصب المجانیق فی قصۃ الغرانیق کتاب لکھ کربدلائل قویہ اس کا بطلان ثابت کیا ہے۔ جس سے حقیقت ِ حال منکشف ہو جاتی ہے۔ شائقین کے لیے ایک نادر تحفہ ہے جس کا مطالعہ ضروری ہے۔ سائل نے پھر بعد میں لَب کشائی کی ہے میرے خیال میں تو اس کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ اشکال کی صورت میں پہلے اپنی بساط کے مطابق خود حل کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔ بصورتِ دیگر محققین اہل علم کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ قرآن میں ہے: (فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) (النحل:43) ”اور حدیث میں ہے: (اِنَّمَا شِفَائُ الْعَیِّ السُّؤَال) [1] مسئلہ کو مزید سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو ہمارے شیخ محمد الامین کی تفسیر’’اضواء البیان:5/727 تا 734۔ قرآنی آیت (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالنَّصَارٰی) کی تشریح و تفسیر اور چند اشکالات کا ازالہ سوال۔ محترم جناب حافظ ثناء اللہ صاحب۔ السلام علیکم ! قرآن ِ حکیم عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث ’’عقیدۂ ابن اللہ کی وجہ سے ان کو کافر قرار دیتا ہے۔ اور ان سے دوستی سے منع کرتا ہے لیکن ’’سورۃ المائدۃ‘‘( آیت : 69) کو یہودی، عیسائی جو بھی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو وہ غمگین نہ ہوں گے۔ اسی طرح ’’سورۃ البقرۃ‘‘ کی آیت نمبر:62 میں ہے کہ وہ اللہ کے ہاں اجر پائیں گے۔ اس ضمن میں چند سوال پوچھوں گا۔ 1۔ کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر ان کو اجر ملے گا؟ 2۔ آج کل عیسائی رفاہِ عامہ کے یا دوسرے اچھے کام کرتے ہیں تو کیا انھیں اجر ملے گا یا نہیں۔ اگر قرآن میں اس وقت کے یہودی ، عیسائی مراد ہیں تو وہ پہلے ہی سے اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہیں۔ (محمد عبدالباسط فاروقی) (12 اگست 1999ء) جواب۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے چار قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے وہ لوگ جو ایمان لائے۔ اس سے مراد شریعت محمدیہ کے ماننے والے ہیں۔ دوسری قسم یہودی ہیں۔ یہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کی امت ہیں۔ تیسری قسم عیسائی۔ یہ عیسیٰ علیہ السلام کی امت ہیں۔ چوتھی قسم بے دین لوگ ہیں۔ ان سے مراد معبودانِ باطلہ کے پجاری ہیں۔ خواہ فرشتوں کو پوجیں یا بتوں کو یا آگ وغیرہ کو، ان کے متعلق سلف کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق نمازیں [1] ۔ فتح القدیر شوکانی 4/508 [2] ۔ زبدۃ التفسیر، ص:201