کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 571
برداشت کی، یہ اعزاز وتکریم بھی اسی کا حق ہے۔ حدیث میں جنت کے اندر شہید کی روح اُڑنے کا ذکر ہے نئے بدن کا نہیں عالم برزخ میں اس کا اصلی بدن سے تعلق قائم رہتا ہے۔ کیفیت اللہ بہتر جانتا ہے۔ جنت میں شہید کو چوں کہ زندگی کی امتیازی حیثیت حاصل ہوتی ہے اس لیے اس کی برزخی حیات کو بالخصوص ذکر کیا گیا ہے اگرچہ سب کو برزخی حیات حاصل ہے۔ شہید کی اعزازی زندگی کے بارے میں قرآن میں ہے: ( بَلْ اَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْنَ o فَرِحِیْنَ بِمَآ ٰاتٰہُمُ اﷲُ مِنْ فَضْلِہٖ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِہِمْ مِّنْ خَلْفِہِمْ اَلاَّ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ) (آلِ عمران: 169، 170) ”بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دئیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل جو انہیں دے رکھا ہے اس سے بہت خوش ہیں اور خوشیاں منا رہے ہیں ان لوگوں کی بابت جو ابھی تک ان سے نہیں ملے ان کے پیچھے ہیں اس پر کہ انھیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ تفصیل اس کی صحیح احادیث میں موجود ہے۔ یاد رہے کتاب وسنت کی باطل وفاسد تاویلیں، سلف صالحین پر کفریہ فتوے بازی کرنا اور اہل حق سے نفرت وبغض کا اظہار کرنا تکفیری گروہ کا محبوب مشغلہ ہے۔ خود ساختہ نظریات کی تشہیر کرکے باطل پرستوں کی معاونت کرنا ان کا خصوصی شیوہ ہے۔ حق وباطل کی کشمکش میں ہر لمحہ شر وفساد کا علم اٹھائے سرگرداں پھرتے ہیں، ان جیسے ملحدوں کی علماء نے پہلے ہر دور میں خبر لی ہے مستقبل میں بھی احباب ان کی سرکوبی کے لیے اہل حق کو کمر بستہ پائیں گے۔ اس فتنہ کا قلع قمع کرنا ہمارا بنیادی فرض ہے۔ موقعہ بہ موقعہ رب العزت کی توفیق سے ہم اس فتنہ کی خبر لیتے رہیں گے، ان شاء اللہ۔ دراصل ان ظالموں نے اللہ مالک کی قدرت کو عاجز انسان جیسی قوت سمجھ رکھا ہے کہ مرنے کے بعد یہ جسم تو تباہ وبرباد ہوجاتا ہے۔ ٹھنڈک کے بعد اس کے لیے دوبارہ زندگی ناممکن اور محال ہے۔ ان کو اس بات کا علم نہیں جو اللہ دوزخ کی جھلستی ہوئی آگ میں درخت اگا سکتا ہے وہ اصلی جسم کو بھی دوبارہ زندگی بخشنے پر قادر ہے۔ (تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُ o نِ الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ط وَ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ } (الملک: 1،2) انبیائے کرام کی برزخی زندگی کیسی ہے ؟ اور کیا شہداء زندہ ہیں؟ سوال۔ ’’سورۃ البقرہ‘‘ کی آیت 154کے مطابق شہداء زندہ ہیں۔ کیا ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور باقی انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیاء وصلحاء بھی شہداء کی طرح زندہ ہیں؟ شہداء کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کہا ہے اور ہمیں یہ حکم ہے کہ انہیں مردہ نہ کہو۔