کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 568
وجود میں آنے سے پہلے بدرجہ اَتم علم ہے کہ لڑکا ہو گا یا لڑکی اور بعد میں بھی جملہ کیفیات کا وہ احاطہ کئے ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ اَزَل سے مقدر الاشیاء ہے۔ اس بناء پر سورہ رعد کے شروع میں جہاں رحمی کیفیات کا تذکرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اوصافِ حمیدہ عالم الغیب والشہادۃ بیان ہوئے ایک مومن مسلمان کو بار بار ان قرآنی آیتوں پر غوروفکر کرنا چاہیے: (اَللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنْثٰی وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ وَ کُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہٗ بِمِقْدَارٍo عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَالِ) (الرعد:8،9) ”مادہ اپنے شکم میں جو کچھ رکھتی ہے اسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے۔ چھپے کھلے کا وہ عالم ہے سب سے بڑا اور سب سے بلند و بالا۔‘‘ پھر لفظ الارحام علی الاطلاق ہر مادہ کوشامل ہے چاہے اس کا تعلق جنس انسانی سے ہو یا حیوانی سے۔ تمام انواع کی کیفیت اللہ کے علم میں ہیں۔ اس بناء پر بڑے وثوق اور نہایت اعتماد سے کہا جا سکتا ہے کہ ہر وہ چیز جو نص ِ قرآنی یا صحیح حدیث سے ثابت ہے وہ واقع کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ یہ دوسری بات ہے کہ ہماری ذہنی رسائی وہاں تک نہ ہو سکے۔ ( فَوْقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ ) اس کا علم کہ ماں کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی؟ سوال۔ حدیث شریف میں ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ؟ لڑکی ہے یا لڑکا ہے ؟ اس کے بارے میں کوئی نہیں بتا سکتا یا کوئی نہیں جانتا ۔ اس کا علم صرف اللہ کو ہی ہے۔ جب کہ موجودہ وقت میں سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان معلوم کر سکتا ہے کہ لڑکی ہے یا لڑکا ہے۔ بلکہ یہاں تک وہ کہتے ہیں، مرد چاہے تو لڑکی پیدا کریں یا لڑکا پیدا کریں۔ ظاہر ہے یہ تو نہ ہونے والی بات تھی مگر اب ممکن ہو گیا ہے کیا کہتے ہیں علمائے کرام اس کے بارے میں؟ (آفتاب احمد خاں عباسی۔ ابو ظہبی) (8 جنوری 1999ء) جواب۔ حدیث میں لڑکے اور لڑکی کا ذکر نہیں بلکہ قرآن و حدیث میں فی الارحام کے الفاظ وارد ہیں جو رحم کی فطرتی اور بنیادی تمام صلاحیتوں اور شکلوں کو حاوی ہے چاہے کوئی عورت شادی شدہ ہو یا نہ ہو۔ مقدر شکل کے معرض ِ وجود میں آنے سے قبل اللہ رحم پر موکل فرشتے کو آگاہ فرماتے ہیں۔ پھر بہت بعد میں ڈاکٹروں کو معلوم ہوتا ہے تو بتائیے اس میں انسانی ترقی کا کیا کمال ہے ؟ اس سے معلوم ہوا ، ڈاکٹری علم شرعی نصوص کے منافی ہے۔ لڑکا یا لڑکی پیدا کرنا مرد کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ رحم پر مقرر فرشتہ بھی رب العزت سے دریافت کرتا ہے : (اَذَکَرٌ اَم اُنْثٰی) [1]یہ لڑکا بنے گا یا لڑکی؟ [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ الدُّعَاء ِ عِنْدَ الکَرْبِ، رقم:6346 [2] ۔ صحیح البخاری،بَابُ (إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ) ،رقم:4563 [3] ۔ سنن أبی داؤد،بَابُ مَا یَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ،رقم:5090 بسند حسن [4] ۔ صحیح البخاری،بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَی صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ،رقم:2697