کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 560
صاحب ’’المرعاۃ ‘‘(فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ) کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (ہُوَ شَامِلٌ لِجَمِیْع مَا یُبْنٰی لِلّٰہِ تقَرُّبًا اِلَیْہِ مِنَ الْمَسَاجِدِ وَالْمَدَارِسِ وَالرّبَاط) (1/184) ”یعنی لفظ حدیث ’’اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں‘‘ یہ لفظ شامل ہے تمام ان چیزوں کو جن کی تعمیر اللہ کے تقرب کے لیے ہوئی ہے۔ مثلاً مساجد، مدارس اور رباط یعنی فقراء کے لیے دینی وقف گاہیں وغیرہ۔‘‘ اس سے معلوم ہوا ان احادیث کے مصداق وہ پاکباز لوگ ہیں جو ہمہ تن کتاب و سنت کی اشاعت میں مصروفِ کار رہتے ہیں نہ کہ اہل بدعت جو اپنی طرف سے محافل ِ ذکر کا اختراع کرکے رسول الثقلین کے ذمے تھوپتے ہیں۔ دوسرے بات یہ ہے کہ پہلی حدیث میں سابقہ پروگرام کے تحت کسی خاص محفل کے انعقاد کا ذکر نہیں ہے بلکہ مقصود یہاں اتفاقی مجلس ہے جو عام طورپر مساجد میں جمتی رہتی ہے قطع نظر ذکری اجتماعی قیادت کے ہر ایک اپنی بساط کے مطابق انفرادی طور پر ذکر میں مصروف رہتا ہے۔ یہ بھی مجلس کی صورت ہی ہے۔ اور جہاں تک اس محفل سے آپ کے محظوظ ہونے کا تعلق ہے سو اس بارے میں عرض ہے بدعت کا یہ خاصہ ہے کہ ہمیشہ اس میں تحسینی پہلو غالب نظر آتا ہے جب کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ( مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ)[1] ” یعنی جو دین میں اضافہ کرے وہ مردود ہے۔‘‘ ( اَللّٰہُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًا وَارْزُقْنَا اِتِّبَاعَہُ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارزْقُنَا اجْتِنَابَہ ) 15 منٹ میں 9قرآن پڑھنے کا ثواب؟ سوال۔ محترمی و مکرمی شیخ الحدیث صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ایک پمفلٹ بعنوان’’ صرف 15 منٹ میں 9 قرآن پاک اور ایک ہزار آیات پڑھنے کا ثواب مل سکتا ہے‘‘ارسال خدمت ہے۔ جس میں کلام ِ حکیم کی کچھ سورتیں اور آیات درج ہیں۔ اس میں بحوالۂ احادیث بتایا گیا ہے کہ ان کی مجوزہ تلاوت سے مذکورہ ثواب مل سکتا ہے … یہ طریقہ عام ہونے سے خدشہ ہے کہ اکثر لوگ مکمل قرآنِ کریم کی تلاوت چھوڑ دیں گے۔ آپ سے اس مسئلے پر روشنی ڈالنے کی درخواست ہے۔(محمد اسلم رانا، شاہدرہ لاہور) ( 13 جولائی 2001ء) جواب۔ مذکور دعویٰ بے بنیاد ہے ،شریعت اسلامیہ میں اس کی کوئی اصل نہیں،’’صحیح بخاری‘‘میں حدیث ہے کہ: ( مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ)[2] ” یعنی جو دین میں اضافہ کرے وہ مردود ہے۔‘‘ [1] ۔ تحفۃ الذاکرین،ص:245 [2] ۔ صحیح مسلم،بَابُ الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَی، رقم: 2186