کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 558
میں عمل ہذا ثابت نہیں۔ خود ساختہ ورد و ظیفوں کی شرعی حیثیت سوال۔ بعض مسجدوں اور دفتروں میں ایک اشتہار لگا ہوتا ہے جس کا عنوان ہے: روزانہ سوتے وقت کے عملیات۔‘‘ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی! رات کو پانچ کام کرکے سویا کرو(1) چار ہزار دینار صدقہ کرکے(2) ایک قرآن پڑھ کر (3) جنت کی قیمت دے کر(4) دو لڑنے والوں میں صلح کراکے(5) ایک حج کرکے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے معذوری ظاہر کی تو فرمایا: (1)چار دفعہ ’’سورۂ فاتحہ‘‘ پڑھنا چار ہزار دینار صدقے کے برابر ہے۔(2) تین بار قل پڑھنا قرآن پڑھنے کے برابر ہے۔(3) تین مرتبہ درود پڑھنا جنت کی قیمت ہے۔(4) دس مرتبہ استغفار دو آدمیوں میں صلح کے برابر ہے۔(5) چار مرتبہ تیسرا کلمہ پڑھنا حج کے برابر ہے… کیا اس روایت کی کوئی اصل ہے؟ (عبدالستار۔ گوجرانوالہ) (2 مارچ 2001ء) جواب۔ مذکورہ وظائف اگرچہ قرآن وحدیث سے ہی ماخوذ ہیں مگر ان کے نتیجے میں بتایا گیا اجر و ثواب کسی حدیث سے ثابت نہیں۔ اس اعتبار سے یہ وظائف خود ساختہ ہی ہیں، شریعت میں ان کی کوئی اصل نہیں اور اس نیت سے ان پر عمل کرنا بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔ مساجد میں خود ساختہ طریقوں سے ذکر کی محافل کے انعقاد کا حکم؟ سوال۔ بہت سی مسجدوں میں ذکر کی محفلیں منعقد ہوتی ہیں، جن میں خود ساختہ طریقوں سے ذکر الٰہی کا اہتمام اور بعض الفاظ کا مخصوص انداز میں وِرد کرایا جاتا ہے ۔ کیا احادیث میں ان کا کوئی ثبوت ملتا ہے ؟( ایک سائل لاہور)(28جنوری 1994ء) جواب۔ بلاریب اللہ کی یاد اور اُس کا ذکر ہر مومن کا مطلوب اور حرزِ جان ہے ۔ لیکن اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور مخصوص ہیئت اجتماعی اور خاص انداز میں ذکر مُقَطَّع کا شریعت ِ مطہرہ میں کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔ جس طرح کہ مشارٌ الیہ قوم کے ہاں مروّج ہے۔ یاد رہے جو شئے عہدِ نبوت میں دین تھی وہ آج بھی دین ہے اور جو اس وقت دین نہیں تھی وہ آج بھی دین نہیں بن سکتی، چاہے اس کے اثبات کے لیے سو جتن کیے جائیں۔ (قالہ الامام مالک) اسی بناء پر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مسجد میں جمے ہوئے حلقۂ ذکر جہاں سو سو دفعہ تسبیحات اور تکبیرات کا وِرد کرایا جا رہا تھا، تند و تیز لہجہ میں فرمایا: (یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ، مَا أَسْرَعَ ہَلَکَتَکُمْ ہَؤُلَاء ِ صَحَابَۃُ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ، وَہَذِہِ ثِیَابُہُ لَمْ تَبْلَ، وَآنِیَتُہُ لَمْ تُکْسَرْ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، إِنَّکُمْ لَعَلَی مِلَّۃٍ ہِیَ أَہْدَی مِنْ مِلَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أوْ مُفْتَتِحُو بَابِ ضَلَالَۃٍ. [1] ۔ فتح الباری:4/489