کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 555
3۔ اس بات کا اعتقاد رکھا جائے کہ دم بذاتِ خود مؤثر نہیں بلکہ اس میں تاثیر اللہ کے حکم سے پیدا ہوتی ہے۔ [1] قاضی عیاض نے کہا ہے کہ دم( جس میں منہ کی ہلکی سی ہوا کے ساتھ ساتھ معمولی نمی بھی ہوتی ہے) کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی رطوبت یا اس کی ہوا سے برکت حاصل ہوتی ہے کیونکہ اس میں ذکر الٰہی کی آمیزش ہوچکی ہوتی ہے۔[2] جن احادیث میں پینے کی اشیاء میں پھونک مارنے سے منع کیا گیا ہے اس کا تعلق پینے کے وقت سے ہے۔ چنانچہ ’’مستدرک حاکم‘‘ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے: (لَا یَتَنَفَّسْ اَحَدُکُمْ فِی الْاِنَائِ اِذَا کَانَ یَشْرَبُ مِنْہُ ) [3] ”آدمی جب پانی پیے تو پینے کے برتن میں سانس نہ لگائے۔‘‘ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ ’’فتح الباری‘‘ (1/255)میں فرماتے ہیں: (وَالتَّنَفُّسُ فِی الْإِنَاء ِ مُخْتَصٌّ بِحَالَۃِ الشُّرْبِ) ”یعنی برتن میں سانس لینا پینے کی حالت کے ساتھ مخصوص ہے۔‘‘ چنانچہ’’صحیح بخاری‘‘ میں حدیث ہے: (اِذَا شَرِبَ اَحَدُکُمْ فَلَا یَتَنَفَّسْ فِی الْاِنَائِ)[4] ”جب تم میں سے کوئی شخص( کوئی چیز) پیے تو برتن میں سانس نہ لے۔‘‘ قرآنی آیات پڑھ کر پانی پر دَم یا پلیٹ میں تحریر یا تعویذ بنا کر گلے میں ڈالنا سوال۔ قرآنی آیات پڑھ کر پانی پر دَم کرنا یا قرآنی آیات پلیٹ پر لکھ کرپینا یا قرآنی آیات لکھ کر تعویذ گلے میں ڈالنا مسنون ہے یا بدعت؟ (سائل: عطاء اللہ کوارٹر نمبر126، ریلوے گارڈ گالونی کوئٹہ) (14فروری 1992ء) جواب۔ دَم میں پھونک مارنی جائز ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے : ( اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ کَانَ یَنْفُثُ فِی الرُّقْیَۃِ)[5] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم دَم میں پھونک مارا کرتے تھے۔‘‘