کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 551
(علاج معالجہ اور دم وغیرہ کے آداب واحکام) جنات نکالنے کے لیے کون سی آیات پڑھی جائیں؟ سوال۔ ماہنامہ’’محدث‘‘ میں ’’جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار‘‘ کے مصنف نے لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس دم کی اجازت دی ہے جس میں شرک نہ ہو، اسی لیے جادو کا اثر زائل کرنے اور جن نکالنے کے لیے جن آیات کا پڑھنا تجویز کیا گیا ہے ، حدیث نبوی میں ان کا ذکر خاص طور پر ثابت نہ ہونا مانع نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جن نکالنے کے لیے جو آیات پڑھنا ثابت نہیں۔ کیا جن نکالنے کے لیے کہیں سے بھی ان آیات کا دم کرنا جائز ہے ؟ (ہدایت الٰہی۔لاہور) (27 ستمبر 2002ء) جواب۔قرآن مجید چونکہ نسخۂ شفاء ہے لہٰذا کسی بھی اچھے مقصد میں کامیابی کے لیے آیات کا انتخاب ہو سکتاہے ؟ جنات کو پانی کی بوتل میں قید کرنے والے عامل سے علاج کروانا ٹھیک ہے؟ سوال۔ ایک اہل حدیث عامل جادو کے علاج کے سلسلے میں قرآن پڑھ کر جنات کو پانی بھری بوتل میں قید کرتا ہے اور کچھ دنوں کے بعد وہ پانی ضائع کردیتا ہے۔ کیا یہ طریقہ درست ہے؟ ایک اہل حدیث عامل نے پہلے جنات تابع کررکھے تھے۔ اب اس کے پاس جنات نہیں ہیں۔ کیا ایسے عامل سے علاج کروانا ٹھیک ہے؟ جزاک اللہ خیراً (عثمان بھٹہ) (16مئی 2008ء) جواب۔جنات کو پانی بھری بوتلوں میں بند کرنے کا دعویٰ کرنا محض مکر وفریب اور اسوۂ نبوی کے خلاف ہے۔’’صحیح بخاری‘‘کتاب الصلوٰۃ وغیرہ میں واقعہ معروف ہے کہ آپ کو جنات کے قید کرنے پر قدرت حاصل تھی۔ لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا ( رَبِّ ہَبْ لِیْ مُلْکًا لَّا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِیْ)(صٓ:35) کے پیش نظر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ مقام نبوت کا احترام ہم پر بھی واجب ہے۔ جادو کا علاج طریقہ ’’حاضرات ‘‘سے کروانا جائز ہے؟ سوال۔ جادو کے علاج کے لیے اہل حدیث عاملوں نے کئی طریقے اختیار کررکھے ہیں ان میں سے ایک طریقہ ’’حاضرات‘‘ کا یہ ہے کہ عامل کسی بچے یا بڑے کو بٹھا کر قرآن پڑھتے ہیں۔ جس پر عمل ہورہا ہوتا ہے وہ آنکھیں بند کرکے عموماً بیٹھتا ہے۔ قرآن کے الفاظ عامل منہ میں سراً پڑھتا ہے۔ جس پر عمل ہورہا ہو اسے مختلف چیزیں آنکھیں بند کیے نظر آتی ہیں۔ مثلاً جادو کہاں پر دفن ہے۔ کون جادو کروا رہا ہے۔ جادو کا توڑ کیا ہے وغیرہ۔ مختلف لوگ مختلف حالت میں وغیرہ۔