کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 547
میں قرآن مجید سکھاتا ہوں، اُس نے تحفے کے طور پر مجھے ایک کمان دی ہے۔ یہ مال تو ہے نہیں بلکہ اس کے ساتھ میں جہاد میں تیر اندازی کیاکروں گا۔ فرمایا: اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمھیں آگ کا طوق پہنایا جائے تو اسے قبول کر لو…[1] اس حدیث شریف کی روشنی میں یا آپ کے علم کے مطابق قرآن و حدیث کی روشنی میں: 1۔ جو لڑکے یا لڑکیاں مدرسوں میں پڑھتی ہیں وہ اپنے استادوں کو کپڑے یا کوئی دوسرا تحفہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟ 2۔ رمضان المبارک میں جو حافظ صاحبان صرف تراویح میں قرآن پاک سنانے کے عوض جو معاوضہ یا تحفہ لیتے ہیں وہ جائز ہے یا نہیں؟ 3۔ جو علماء جلسوں میں تقریروں کے پیسے لیتے ہیں وہ جائز ہے یا نہیں؟ (منظور احمد ارائیں، کوٹ لکھپت لاہور) (17 اپریل 1998ء) جواب۔ مشارٌ الیہ روایت میں المغیرہ بن زیاد ابو ہاشم الموصلی ’’مختلف فیہ‘‘ راوی ہے۔ امام احمد نے اس کو ضعیف الحدیث کہا ہے۔ اس نے کئی ایک منکر احادیث بیان کی ہیں اور ہر وہ حدیث جس کو اس نے مرفوع بیان کیا وہ منکر ہے اور ابو زرعہ نے کہا، اس کی حدیث قابل حجت نہیں۔[2] اس کے ہم معنی کئی ایک اور بھی روایات ’’نیل الاوطار‘‘ میں منقول ہیں جن سے ممانعت معلوم ہوتی ہے۔ اگرچہ ان میں بھی بعض میں کلام ہے لیکن مجموعی روایات قابلِ حجت ہیں کہ تعلیم قرآن پر اجرت نہیں لینی چاہیے۔ اس بناء پر امام ابوحنیفہ وغیرہ اس بات کے قائل ہیں کہ مطلقاً تعلیم قرآن پر اجرت نہیں لینی چاہیے لیکن جملہ آثار کے پیش نظر ظاہر یہ ہے کہ بلاشرط کوئی شئے قبول کرنے کا کوئی حرج نہیں۔’’صحیح بخاری‘‘میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ لہٰذا سوال میں مذکور تین صورتوں کابلا شروط جواز ہے اور شرط کرنی ناجائز ہے۔ قرآن کے حفظ میں ناکامی کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ سوال۔ زید کو اس کے والدین نے قرآن مجید حفظ کرایا ہے۔ شروع میں زید کی بھی یہی خواہش تھی۔ تقریباً ایک تہائی قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد اُسے اندازہ ہوا کہ وہ ساری عمر قرآن مجید کو یاد نہیں رکھ سکتا۔ اس لیے اس نے والدین سے درخواست کی کہ مجھے مدرسہ سے ہٹا دیا جائے لیکن انھوں نے زبردستی کی ۔ بادلِ نخواستہ زید نے بقیہ قرآن بھی حفظ کیا۔ لیکن اس میں اس کی کوئی رضامندی نہ تھی۔ پھر قراء حضرات کی تبدیلی نے بھی اس کی پڑھائی پر کافی اثر ڈالا۔ اب جب کہ زید کو صرف ایک تہائی قرآن یاد ہے جس میں اس نے دلچسپی لی۔ صورتِ بالا میں کیا زید قرآن کو بھلانے کی صورت میں اللہ کے عذاب کا مستحق ہے ؟ اگر ہے تو کیااس کا کوئی کفارہ ہے جس کے ذریعے زید آخرت میں خود کو اللہ