کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 545
واجب ہو گا یا نہیں؟ اگر ہو گا تو کس پر ؟ ( سائل) (10مئی 2002ء) جواب۔ اس عادت کو بدلنا چاہیے لیکن شرعاً ایسی قسموں میں کفارہ نہیں۔ ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر(1/359۔360) ختم قرآن کے موقع پر مٹھائی تقسیم کرنا بدعت ہے؟ سوال۔ کیا رمضان المبارک میں نمازِ تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر مٹھائی وغیرہ تقسیم کرنا بدعت ہے؟ (22 مئی 1998ء) جواب۔ نمازِ تراویح میں ختمِ قرآن کے موقع پر مٹھائی کی تقسیم ضروریات دین سے نہیں، محض طبعی خوشی کا اظہار ہے۔ شیخنا محدث روپڑی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بعض تفاسیر میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب ’’سورہ بقرہ‘‘ ختم کی تو دس اونٹ ذبح کیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کتاب کے ختم ہونے پر اگر کوئی خوشی کی جائے تو حرج نہیں، لیکن اس کا التزام کرنا اور اس کو ضروری سمجھنا جیسے آج کل ہوتا ہے ۔ یہ طریقہ مناسب نہیں ، کیونکہ سلف میںاس قسم کے التزام کا ثبوت نہیں۔ (فتاویٰ اہل حدیث:2/336) تکمیل قرآن پر مٹھائی وغیرہ تقسیم کرنا کیسا ہے ؟ سوال۔ کیا 27رمضان کو قرآن مکمل کرنا پھر اس پر مٹھائی بسلسلہ تقاریر اور اجتماعی دعا اور پھر اس پر مزید اضافہ کہ مسجد کی لائٹس بند کرنا۔ کیا قرآن وسنت سے جائز ہے اور اندھیرے میں اجتماعی دعا کا کیا ثبوت ہے؟ (ثناء اللہ بھٹہ)( 13 ۔اپریل2007ء) جواب۔ بلاشبہ رمضان میں تلاوت قرآن مجید کا اہتمام کثرت سے ہونا چاہیے۔ چنانچہ مشکوٰۃ باب الاعتکاف میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں جبریل علیہ السلام سے قرآنِ مجید کا دور کرتے تھے اور جس سال آپ فوت ہوئے اس سال دو دفعہ دور کیا۔ لیکن ستائیس تاریخ کی تعیین نہیں بلا تعیین ستائیس کو بھی ختم ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔ باقی امور کا اضافہ سنت سے ثابت نہیں۔ قرآن ناظرہ اور حفظ کے اختتام پر مٹھائی وغیرہ بانٹنا سوال۔ ہمارے مدارس اور مساجد میں عام طور پر جب کوئی طالب علم ناظرہ قرآن پڑھ لیتا ہے یا قرآن پاک مکمل حفظ کر تا ہے تو آخری سبق کسی عالم کو بلا کر سنایا جاتا ہے اور قرآن کی فضیلت یا اس پر عمل کے سلسلے میں بچوںکو وعظ و نصیحت کی جاتی ہے اور گھر والے اپنی خوشی سے مٹھائی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں، استاد کو کپڑے یا نقدی وغیرہ بھی پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے مدارس میں’’صحیح بخاری شریف‘‘ کے اختتام پر بھی تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟ [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ جَمْعِ القُرْآنِ،رقم: 4987 [2] ۔ فتح الباری 9/21