کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 544
مجھے اس کی صحت بھی معلوم نہیں ہوسکی۔ اگرچہ ہمارے مشائخ اور دیگر لوگوں میں مشہور ہے مگر ان کی کتابوں سے اس کا علم نہیں ہو سکا۔(بحوالہ فتاویٰ اسلامیہ:4/12۔13) قرآن کی قسم اٹھانا کیسا ہے ؟ سوال۔ خالق کائنات کے سوا مخلوق کی قسم اٹھانا ناجائز ہے تو قرآن جو کلام اللہ اور غیر مخلوق ہے، کی قسم اٹھائی جا سکتی ہے ؟ (زبیر احمد اظہر۔ گوجرانوالا ) (21ستمبر 2001ء) جواب۔ قرآن چونکہ اللہ کی صفت ہے لہٰذا اس کی قسم کھائی جا سکتی ہے۔ عون المعبود (3/216)میں ہے: (رُوِیَ عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَۃِ التَّحْلِیْفُ عَلَی الْمُصْحَفِ) ”یعنی بعض صحابہ سے قرآن کی قسم کھانا مروی ہے۔‘‘ قرآن کا واسطہ دے کر دعا کرنا؟ سوال۔ کیا قرآن پاک کا واسطہ دے کر اللہ سے سوال کیا جا سکتا ہے ؟ (زبیر احمد اظہر۔ گوجرانوالا ) (21ستمبر 2001ء) جواب۔ قرآن چونکہ اللہ کی صفت ہے، اس لیے اس کے واسطے سے اللہ سے التجاء کی جا سکتی ہے۔ کیا قرآن کی قسم اٹھا سکتے ہیں؟ سوال۔ شریعت کی رُو سے کس کی قسم کھانی چاہیے؟ مثلاً قرآن مجید ہاتھ میں اٹھا کر قسم کھانی چاہیے یا اللہ کانام لے کر صرف اللہ کی قسم کھانی چاہیے؟ (حاجی محمد خالد۔لاہور) (23اگست 2002ء) جواب۔ بوقت ضرورت قسم صرف اللہ کا نام لے کر کھانی چاہیے۔ مثلاً یوں کہا جائے۔ وَاللّٰہِ ، بِاللّٰہِ یا تَاللّٰہِ وغیرہ۔[1] قرآن پر قسم کھانا بعض صحابہ سے مروی ہے کسی مرفوع متصل روایت میں نہیں۔ چنانچہ ’’عون المعبود‘‘ (3/216) میں ہے: (وَ رُوِیَ عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَۃِ التَّحْلِیْفُ عَلَی الْمُصْحَفِ) کیا عادتاً اٹھائی جانے والی قسموں کا کفارہ ہے؟ سوال۔ میری والدہ محترمہ کی عادت ہے کہ ان کی مرضی کے خلاف کوئی کام کریں ، تو کہتی ہیں کہ تمھیں اللہ کی قسم یہ کام نہ کرنا۔ حالانکہ بعض اوقات وہ غلطی پر ہوتی ہیں۔ ان کے قسم دینے پر اگر اس کے خلاف کیا جائے تو کیا کسی پر قسم کا کفارہ [1] ۔ فتح الباری:9/21 [2] ۔ فتح الباری: 9/21