کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 541
کیا تعویذ لکھنے والا، تعویذ استعمال کرنے والا مشرک ہے؟ سوال۔ تعویذ لکھنے والا، تعویذ استعمال کرنے والا مشرک ہے،ا گرچہ تعویذ میں قرآن ہی کیوں نہ لکھاہو۔ جواب۔صحابہ کرام اور سلف صالحین کی ایک جماعت سے تعویذ لکھنا ثابت ہے۔ ان پر کیا فتویٰ صادر کریں گے۔ ہَدَانَا اللّٰہُ وَ اِیَّاکُمْ حدیث میں جس تعویذ کو شرک کہا گیا ہے وہ جعلی تعویذی منکے ہیں۔ مسند امام احمد کی روایت میں اس حدیث کے سبب ورود میں اس امر کی طرف اشارہ موجود ہے۔ اگرچہ ہمارے نزدیک اولیٰ یہ ہے کہ مطلقاً تعویذات سے احتراز کیا جائے اگرچہ وہ قرآنی آیات اور صحیح دعاؤں پر ہی مشتمل ہوں۔ قرآنی تعویذوں کا کیا حکم ہے ؟ سوال۔ قرآنی تعویذ گلے اور بازو وغیرہ میں لٹکانا جائز ہے یا نہیں؟(ہدایت اللہ الٰہی) (27 ستمبر 2002ء) جواب۔ قرآنی تعویذات وغیرہ بھی گلے میں لٹکانے سے بچنا ہی چاہیے۔ سوال۔ کیا کسی صحابی سے صحیح اور صریح طور پر ثابت ہے کہ وہ قرآنی تعویذ کا قائل تھا؟ (ہدایت اللہ الٰہی) (27 ستمبر 2002ء) جواب۔ بسند صحیح کسی صحابی سے ثابت نہیں۔ ٹیلی ویژن پر قرآن سننا سوال۔ آج صبح کے درس میں درس دینے والے نے یہ فرمایا کہ ٹیلی ویژن پر قرآن مجید کی تلاوت سننا گناہ ہے۔ اس لیے آپ کو تکلیف دی جا رہی ہے کہ آپ اس کے حق میں یا خلاف کیا فرماتے ہیں؟ (ایک سائل از وہاڑی) (5 جون 1998ء) جواب۔ ٹیلی ویژن اور ریڈیو وغیرہ جدید آلات سے ہیں جو متأخر زمانہ کی ایجادات ہیں۔ بذاتِہٖ غیر متحرک ہیں ۔ آدمی اگر ان کا استعمال بھلائی کے لیے کرتا ہے مثلاً قرآن مجید کی تلاوت کا سماع یا مفید باتیں اور اہم خبریں سماعت کرتا ہے تو اس کا جواز ہے اور اگر گانے یا موسیقی وغیرہ کے لیے استعمال کرتا ہے تو بایں صورت سماع کرنا حرام ہے۔ گویا کہ ان چیزوں کی اچھائی یا برائی کا انحصار انسانی افعال اور تصرفات پر ہے لیکن تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے احتراز کیا جائے۔ تاکہ غفلت سے شیطانی راہ کی طرف رغبت نہ ہونے پائے۔ [1] ۔ سنن أبی داود،بَابُ مَا یَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا رَکِبَ،رقم:2602، مشکوٰۃ باب الدعوات فی الاوقاف ،رقم:2434 [2] ۔ صحیح البخاری، کتاب التفسیر، بَابُ مَا جَاء َ فِی فَاتِحَۃِ الکِتَابِ ،قبل رقم الحدیث:4474