کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 539
جواب۔ قرآنی آیات والے بوسیدہ اوراق کو ضائع کرنا جائز ہے۔ پانی میں بہادیے جائیں یا پاکیزہ زمین میں دفن کردیے جائیں۔ اوراق کو جلانے کا عمل بھی درست ہے۔’’صحیح بخاری‘‘میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: ( وَأَمَرَ بِمَا سِوَاہُ مِنَ القُرْآنِ فِی کُلِّ صَحِیفَۃٍ أَوْ مُصْحَفٍ، أَنْ یُحْرَقَ) [1] ”حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ کے صحف سے منقول قرآن کے علاوہ ہر صحیفے یا مصحف میں جو قرآن ہے اُسے جلانے کا حکم صادر فرمایا۔‘‘ شارح بخاری امام ابوالحسن ابن بطال فرماتے ہیں: (فِی ہَذَا الْحَدِیثِ جَوَازُ تَحْرِیقِ الْکُتُبِ الَّتِی فِیہَا اسْمُ اللّٰهِ بِالنَّارِ وَأَنَّ ذَلِکَ إِکْرَامٌ لَہَا وَصَوْنٌ عَنْ وَطْئِہَا بِالْأَقْدَامِ وَقَدْ أَخْرَجَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مِنْ طَرِیقِ طَاوُسٍ أَنَّہُ کَانَ یُحَرِّقُ الرَّسَائِلَ الَّتِی فِیہَا الْبَسْمَلَۃُ إِذَا اجْتَمَعَتْ وَکَذَا فَعَلَ عُرْوَۃُ ) [2] ”اس حدیث میں یہ مسئلہ ہے کہ ان کتابوں کو جلانا جائز ہے ، جن میں اللہ عزوجل کا اسم گرامی ہو۔ اس میں ان کی عزت و اکرام ہے ، بجائے اس کے کہ قدموں کے نیچے روندے جائیں اور ان کی بے ادبی ہو۔ طاؤس کے پاس جب اللہ کے نام والے کتب و رسائل جمع ہو جاتے تو انھیں جلا ڈالتے۔ عروہ کا فعل بھی اسی طرح مروی ہے۔‘‘ مقدس اوراق کی راکھ کا حکم؟ سوال۔ اگر قرآن شریف کے پرانے اوراق یا دوسرے مقدس اوراق جلائے جائیں تو کیا راکھ محفوظ جگہ میں دفنانا یا دریا برد کرنا ضروری ہے یا عام راکھ کا حکم رکھتی ہے؟(ابوعبداللہ ، غواڑی بلتستان) (28مئی 2004ء) جواب۔ راکھ تو عام راکھ جیسی ہی ہو گی، تاہم ذہنی سکون کے لیے اس کو دفن کرلیا جائے یا پانی میں بہادیا جائے۔ اخبارات میں آیاتِ قرآنیہ کا ترجمہ چھاپنا سوال۔ اخبارات میں جہاں اخبار کا نام لکھا ہوتا ہے اس کے قریب ہی قرآنی آیات کا ترجمہ بھی لکھا ہوتا ہے۔ اخبارات والے جانتے ہیں کہ زیادہ تر لوگ ان اوراق کا خیال نہیں رکھتے اور گندگی کے ڈھیروں پر اخبارات پڑے ہوتے ہیں۔ اندریں صورت اخبار شائع کرنے والے گناہگار ہوں گے یا اخبارات کو محفوظ جگہ پر نہ رکھنے والے؟ (ام کلثوم۔ لاہوتی) (16۔ اگست 2002ء) [1] ۔ تفسیر القرآن:1/45 [2] ۔ تفسیر ابن کثیر:2/54