کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 516
عادی ہیں۔ اعاذنا اللّٰهَ منہ صحابہ کرام کے متعلق درست موقف سوال۔ تاریخ کے ایک طالب علم کے اس سوال کا کیا جواب دیا جا سکتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں سے باغی کون ہے ؟ قصاص ِ عثمان رضی اللہ عنہ کا مطالبہ ایک سیاسی چال اور اقتدار چھوڑنے سے انکار کے بہانے کے لیے استعمال کیا گیا ؟(سائل) (11 جون 2004ء) جواب۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں حق پر تھے، وجہ نزاع محض اجتہادی تھی جس کی بنا پر کسی پر کوئی مواخذہ نہیں، بلاشبہ وہ سب جنتی ہیں،(رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُھمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ) قصۂ عمار کی بنا پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ پر باغی کا اطلاق کرنا درست نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ حضرت عمار کا قاتل وہی باغی گروہ ہے جس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا، یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں شامل تھے۔ نامور محقق حافظ صلاح الدین یوسف لکھتے ہیں: ”گھمسان کے رَن میں عین ممکن ہے کہ حضرت علی کی فوج میں شامل گروہِ باغی ہی کے ہاتھوں انہی کی فوج کے چند آدمی بھی مارے گئے ہوں جن میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ بھی شامل ہو ں یا پھر ان ہی قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے کچھ افراد گروہِ معاویہ میں محض اس بنا ء پر شامل ہو گئے ہوں کہ اس طرح ان کی طرف سے لڑتے ہوئے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کرکے گروہِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو گروہِ باغی باور کرانے کی کوشش کریں۔‘‘ (خلافت و ملوکیت،ص: 380) امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ الفاظ حدیث(تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب کے باغی ہونے پر نص نہیں، چنانچہ وہ اس کی ایک توجیہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: (ثُمَّ إِنَّ عَمَّارًا تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ لَیْسَ نَصًّا فِی أَنَّ ھٰذَا اللَّفْظَ لِمُعَاوِیَۃَ وَ أَصْحَابِہٖ بَلْ یُمْکِنُ أَنَّہٗ أُرِیْدَ بِہِ تِلْکَ الْعِصَابَۃُ الَّتِیْ حَمَلَتْ عَلَیْہِ حَتّٰی قَتَلَتْہُ وَ ہِیَ طَائِفَۃٌ مِنَ الْعَسْکَرِ ، وَ مَنْ رَضِیَ بِقَتْلِ عَمَّارٍ کَانَ حُکْمُہٗ حُکْمَہَا ، وَ مِنَ الْمَعْلُوْمِ أَنَّہٗ کَانَ فِی الْعَسْکَرِ مَنْ لَمْ یَرْضَ بِقَتْلِ عَمَّارٍ کَعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ الْعَاصِ وَغَیْرِہٖ بَلْ کُلُّ النَّاسِ کَانُوْا مُنْکِرِیْنَ لِقَتْلِ عَمَّارٍ حَتّٰی مُعَاوِیَۃَ وَ عَمْرٍو) [1] ”ممکن ہے اس سے مراد گروہ کے وہ افراد ہوں جنھوں نے حضرت عمار پر حملہ کرکے انھیں قتل کردیا، اور وہ لشکر میں شامل تھے،نیز جو شخص عمار کے قتل پر راضی تھا اس کا حکم بھی ان جیسا ہو گا ورنہ یہ بات معلوم ہے کہ لشکر میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو عمار کے قتل پر راضی نہ تھے جیسے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ ہیں بلکہ سب لوگ [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَی صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ،رقم:2697 [2] ۔ سنن الترمذی،بَابُ مَا جَاء َ فِی کَرَاہِیَۃِ قِیَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ،رقم:،2755 سنن ابی داؤد،بَابٌ فِی قِیَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ، رقم:5229