کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 510
(فِی ہَذَا الْحَدِیثِ أَمْرُ الْإِمَامِ الْأَعْظَمِ بِإِکْرَامِ الْکَبِیرِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَمَشْرُوعِیَّۃُ إِکْرَامِ أَہْلِ الْفَضْلِ فِی مَجْلِسِ الْإِمَامِ الْأَعْظَمِ وَالْقِیَامِ فِیہِ لِغَیْرِہِ مِنْ أَصْحَابِہِ وَإِلْزَامُ النَّاسِ کَافَّۃً بِالْقِیَامِ إِلَی الْکَبِیرِ مِنْہُمْ) [1] اور جو لوگ منع کے قائل ہیں ان کا استدلال ابوامامہ کی روایت سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصا پر ٹیک لگائے نکلے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجمیوں کی طرح ایک دوسرے کے لیے کھڑے مت ہوں۔ امام طبری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کا جواب دیا ہے کہ اس کی سند میں اضطراب ہے۔ اور اس میں راوی غیر معروف ہیں۔ اور اسی طرح ان کا استدلال آپ کے اس ارشاد سے ہے: (مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَتَمَثَّلَ لَہُ بَنُو آدَمَ قِیَامًا وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ) [2] امام طبری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا جواب یوں دیا ہے :’’اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کھڑا ہونے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اکرام کے لیے اس میں نہی کا ذکر نہیں۔‘‘ اور ابن قتیبہ نے جواب یوں دیا :’’ اس سے مراد سر پر کھڑے رہنا ہے۔ جس طرح کہ عجمی شاہان کی عادت تھی اور ابن بطال نے جواز کے لیے نسائی کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آتے دیکھ کر خوش آمدیدکہتے پھر کھڑے ہو کر اس کا بوسہ لیتے پھر ہاتھ پکڑکر اپنی جگہ بٹھا لیتے۔‘‘ یہ روایت ترمذی، اور ابوداؤد وغیرہ میں بھی ہے اور قصہ توبہ کعب بن مالک میں ہے: ( فَقَامَ اِلَیَّ طَلْحَۃُ بْنُ عُبِیْدِ اللّٰہِ یُہَرْوِلُ) [3] ”یعنی طلحہ بن عبید اللہ میری طرف دوڑتے ہوئے آئے۔‘‘ اس طرح کے بہت سارے دلائل جانبین سے دیے جاتے ہیں۔ ابن الحاج نے ’’المدخل‘‘ میں امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کے جملہ مستندات کے جوابات دینے کی سعی کی ہے۔ اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ’’فتح الباری‘‘ میں سوال و جواب کی طویل بحث کی ہے جو ایک محقق کے لیے بے حد مفید ہے۔ اختتام بحث پر امام غزالی کے نظریہ کو پسند فرمایا : [1] ۔ سنن ابی داؤد،بَابٌ فِی السَّلَامِ إِذَا قَامَ مِنَ الْمَجْلِسِ،رقم:5208