کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 508
سے اظہارِ محبت فرمایا تھا۔[1] روایت ہذا کو امام ترمذی نے حسن قرار دیا ہے۔ ابو الہیثم بن التیان کی روایت میں بھی معانقہ اور تقبیل کی تصریح ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ ائمہ میں سے مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فعلِ معانقہ ویسے ہی مکروہ سمجھا ہے جب کہ سفیان بن عینیہ نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: فتح الباری: 11/ 59۔60۔ ایک سے زائد مرتبہ معانقہ جائز ہے؟ سوال۔ معانقہ ایک سے زائد مرتبہ جائز ہے کہ نہیں؟ عام معروف طور پر تین دفعہ معانقہ کیا جاتا ہے۔(آپ کا بھائی سید طاہر عباس شاہ جوہر آباد خوشاب) (31جولائی 1998ء) جواب۔ نفس معانقہ کی مشروعیت روایات و آثار سے ثابت ہے۔ اگرچہ امام مالک کے نزدیک مکروہ ہے لیکن راجح بات جواز ہے۔ البتہ معانقہ میں تکرار کسی حدیث میں میری نظر سے نہیں گزرا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:فتح الباری:۱ 11/ 59۔60۔ سفر سے واپس آنے پر گلے ملنا ثابت ہے؟ سوال۔ سفر کے بعد ملیں تو گلے ملنا ثابت ہے لیکن بعض دینی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے موحّد لوگ بھی جب روزانہ یا دوسرے تیسرے دن ملتے ہیں تو ’’ازراہِ محبت‘‘ گلے ملتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟ (وقار علی۔ لاہور) ( 18 اپریل 1997ء) جواب۔ گلے ملنا سفر کی آمد کے ساتھ مخصوص ہے جس طرح کہ سابقہ روایات میں اس امر کی تصریح موجود ہے۔ عید کے موقع پر گلے ملنا اور’’عید مبارک‘‘ کہنا: سوال۔ عید کے موقع پر گلے ملنے اور’’عید مبارک‘‘ کہنے کی کتاب وسنت سے کوئی دلیل ہے ؟ ایک مولانا صاحب نے فرمایا کہ عید کے موقع پر گلے ملنا بدعت ہے ۔ مہربانی فرما کر کتاب و سنت کی روشنی میں جواب سے مطلع فرمادیں۔ (عبدالرحمن خلیق ملکوال) (23 فروری 2001ء) جواب۔ عید کا دن مسلمانوں کے لیے خوشی اور باہمی مؤدت و محبت کے اظہار کا دن ہے ، لہٰذا اس میں خوشی کا اظہار ہونا چاہیے۔ حافظ ابن حجر بسند حسن جبیر بن نفیر سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب عید کے روز جب آپس میں [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ الأَخْذِ بِالیَدَیْنِ،رقم:6265