کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 507
عام ملاقات میں صرف سلام اور واپسی پر سلام، مصافحہ اور معانقہ کا حکم سوال۔کوئی شخص باہر سے آئے تو وہ سلام کہتا ہے۔ حاضرین سلام کے جواب کے ساتھ مصافحہ یا معانقہ کرتے ہیں ۔ کیا چلتے وقت بھی مصافحہ یا معانقہ کرنا چاہیے یا صرف سلام کہہ کر چلے جانا چاہیے۔سنت طریقہ کیا ہے ؟ (شاہجہان ملک) (12نومبر 1999ء) جواب۔ عام ملاقات میں صرف سلام ہی کافی ہے اس کے ساتھ ساتھ بسا اوقات مصافحہ کا جواز ہے اور بعض حالات میں معانقہ کا بھی جواز ہے مثلاً کوئی شخص سفر سے آتا ہے یا سفر پر جاتا ہے تو مصافحہ اور معانقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ وسعت ہے جب کہ سلام کا التزام تو ہر صورت ہی موجود ہے۔ مصافحہ اور معانقہ کرنا سنت سے ثابت ہے ؟ سوال۔ کیا مصافحہ کرنا اور معانقہ کرنا سنت سے ثابت ہے ؟ مصافحہ ایک ہاتھ سے ہی کرنا چاہیے یا دونوں سے بھی جائز ہے؟( سائل) (10مئی 2002ء) جواب۔ مصافحہ اور معانقہ دونوں سنت سے ثابت ہیں۔ مصافحہ صرف ایک داہنے ہاتھ سے ہونا چاہیے۔ ملاحظہ ہو!( سنن الترمذی مَعَ تحفۃ الاحوذی :7/519۔ بَابُ مَا جَائَ فِی الْمُصَافَحَۃِ ۔ وَ بَابُ مَا جَائَ فِی المُعَانَقَۃِ وَالقُبْلَۃِ) معانقہ کی شرعی حیثیت اور کتنی بار؟ سوال۔ جب معانقہ کیا جاتا ہے تو بعض لوگ پہلے ہاتھ ملاتے ہیں۔ پھر تین مرتبہ گلے ملتے ہیں مثلاً پہلے دائیں طرف سے گلے لگایا پھر بائیں طرف سے اور پھر تیسری مرتبہ دائیں طرف سے، اس طرح تین دفعہ گلے ملتے ہیں۔ گلے ملنے سے پہلے بھی ہاتھ ملاتے ہیں اور گلے ملنے کے بعد بھی یوں دو دفعہ ہاتھ ملانا اور تین دفعہ گلے ملنا کیا درست طریقہ ہے؟ سنت سے کیا ثابت ہے؟ (وقار علی۔ لاہور) ( 18 اپریل 1997ء) جواب۔ معانقہ کا مفہوم عربی زبان میں صرف یہ ہے کہ (جَعَلَ یَدَیْہِ عَلٰی عُنِقِہٖ وَ ضَمَّہُ اِلٰی صَدْرِہٖ) (المنجمد) اپنے دونوں ہاتھوں کو دوسرے کی گردن پر کر کے اسے سینہ سے ملا لینا تعدّد یا تکرار کی ضرورت نہیں۔ اس بارے میں ’’مسند احمد‘‘ اور ابو داؤد میں روایت موجود ہے لیکن سنداً متکلم فیہ ہے۔ اسی طرح طبرانی اوسط میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں معانقہ سفر سے آمد کے ساتھ مقید ہے۔ ( وَ اِذَا قَدِمُوْا مِنْ سَفَرٍ تَعَانَقُوْا) ترمذی کی روایت میں ہے۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی مدینہ آمد پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے معانقہ اور تقبیل (بوسہ) [1] ۔ فتح الباری:11/54 [2] ۔ مسند احمد،رقم: 179060