کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 505
مصافحہ ایک ہاتھ سے یا دو ہاتھ سے؟ سوال۔ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا افضل ہے یا دو سے؟ بعض حضرات کہتے ہیں کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا افضل ہے۔ دلیل دیتے ہیں۔ ابو معمر ابن مسعود کی روایت۔ بخاری باب المصافحۃ(عَلَّمَنِیْ النَّبِیُّ وَ کَفّی بَیْن کَفَّیْہِ) (سائل) (6جولائی 2001ء) جواب۔ جانبین سے مصافحہ صرف داہنے ہاتھوں سے ہونا چاہیے۔ ’’مسند احمد‘‘ میں عبد اللہ بن بسر کی روایت میں اس امر کی تصریح موجود ہے جب کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت میں مصافحہ مقصود نہیں۔ یہ تو صرف تعلیم وتعلم میں دلچسپی اور محض اہتمام کا اظہار تھا۔ جس طرح بڑے بزرگ ، چھوٹوں سے شفقت کا اظہار کرتے ہیں۔ حنفی فقہاء نے بھی اس توجیہ کی بھرپور تائید کی ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتاب(اَلمقالۃ الحسنی فی سنیۃ المصافحۃ بالید الیمنٰی‘ مؤلفہ علامہ عبدالرحمن مبارکپوری۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ مشارٌ الیہ حدیث (بَابُ الْمُصَافَحَۃ)میں نہیں بلکہ (بَابُ الْاَخذ بِالْیَدِیْنِ) میں ہے۔ اپنے استاد یابزرگ باعمل عالم دین کے ساتھ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا سوال۔ کیا آدمی اپنے استاد یا بزرگ باعمل عالم دین کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کر سکتا ہے؟ (سائل محمد یحییٰ عزیز کوٹ رادھا کشن) (14 اگست 1998ء) جواب۔ مصافحہ صرف داہنے ہاتھ سے کرنا سنت ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتاب المقالۃ الحسنی۔ مؤلفہ محدث عبدالرحمن مبارکپوری۔ رحمۃ اللہ علیہ مجلس سے واپسی کے وقت سلام اور مصافحہ کا حکم سوال۔ ملاقات کے وقت مصافحہ کرنے اور سلام کہنے کا حکم تو ہے کیا واپسی کے وقت سلام کہنا اور مصافحہ کرنا کسی حدیث سے ثابت ہے ؟ مصافحہ ایک ہاتھ سے کرنا چاہیے یا دو سے؟ (ایک سائل) (3اکتوبر1992ء) جواب۔ زائر کا واپسی کے وقت سلام کہنا بھی مسنون ہے۔ چنانچہ ’’سنن ابی داؤد‘‘ میں حدیث ہے: (إِذَا انْتَہَی أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَجْلِسِ، فَلْیُسَلِّمْ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَقُومَ، فَلْیُسَلِّمْ فَلَیْسَتِ الْأُولَی بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَۃِ) [1] ”یعنی جب ایک تمہارا مجلس میں آئے تو سلام کہے پس جب اٹھ کر جائے پھر بھی سلام کہے۔ پہلے سلام کی شرعی حیثیت دوسرے سے زیادہ نہیں۔‘‘ [1] ۔ فتح الباری: 9/523 [2] ۔ صحیح مسلم،بَابُ تَوْقِیرِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَتَرْکِ إِکْثَارِ سُؤَالِہِ …الخ ،رقم:1337