کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 504
حدیث ہے ، حسان بن نوح حمصی کا بیان ہے کہ میں نے عبد اللہ بن بسر کو دیکھا وہ فرماتے تھے کہ : میری اس ہتھیلی کو تم دیکھتے ہو؟ میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اس کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھا تھا۔اس کی سند صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مصافحہ صرف ایک ہاتھ سے ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، رسالہ ’المقالۃ الحسنٰی‘ مؤلف علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ اور تحفۃ الاحوذی( 7/516 تا 522) کیا دونوں ہاتھوں سے سلام لینا جائز ہے ؟ سوال۔ کیا دونوں ہاتھوں سے سلام لینا جائز ہے ؟ کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھوں سے سلام لیتے تھے؟ (قمر الزماں فیروز پوری۔ جھبراں) (9 اکتوبر 1998) جواب۔ کسی صحیح حدیث سے واضح طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں ہاتھوں کے ساتھ مصافحہ کرنا ثابت نہیں۔ متعدد صحیح احادیث میں صرف داہنے ہاتھ کی تصریح ہے۔ لفظ مصافحہ کا مفہوم بھی یہی ہے کہ ہتھیلی کا ہتھیلی سے لگنا جملہ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتاب ’’المقالۃ الحسنٰی‘‘ محدث مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ ،صاحب تحفۃ الاحوذی۔ کیا دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا بدعت ہے؟ سوال۔ کیا دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا بدعت ہے؟ یا صرف ایک ہاتھ سے کرنا چاہیے؟ جواب۔ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا سنت سے ثابت نہیں، صرف ایک داہنے ہاتھ سے مصافحہ ہونا چاہیے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتاب ’’المقالۃ الحسنٰی‘‘ محدث مبارکپوریؒ ،صاحب تحفۃ الاحوذی۔ مصافحہ ایک ہاتھ سے یا دونوں ہاتھوں سے؟ سوال۔ سلام ایک ہاتھ کے ساتھ کرنا چاہیے یا دونوں ہاتھوں کے ساتھ۔ (سائل) (1 جون 2001ء) جواب۔مصافحہ صرف داہنے ہاتھ سے ہونا چاہیے۔ مسند امام احمد میں حدیث ہے، حضرت عبد اللہ بن بسر نے فرمایا: ( تَرَوْنَ کَفّی ھٰذِہِ فَأَشْہَدُ اِنِّیْ وَضَعْتُہَا عَلٰی کَفِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ‘ اَلْحَدِیْث اِسْنَادُہُ صَحِیْحٌ ) یعنی میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اس ہتھیلی کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھا تھا۔‘‘ اور ’’التمھید‘‘ ابن عبد البر کی روایت میں (صَافَحْتُ بِہَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ) کے الفاظ ہیں کہ اس ہتھیلی کے ساتھ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کیا تھا۔ لفظ مصافحہ کا مفاد اور مفہوم بھی یہی ہے ۔ ملاحظہ ہو تاج العروس وغیرہ) مزید تفصیل کے لیے ’’المقالۃ الحسنیٰ‘‘ علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ ۔ [1] ۔ فتح الباری: 10/84 [2] ۔ صحیح البخاری،بَابُ التَّسْمِیَۃِ عَلَی الطَّعَامِ وَالأَکْلِ بِالیَمِینِ،رقم:5376