کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 496
بھی مخصوص حالات میں جواز کے قائل ہیں۔ چنانچہ ہیئت کبار علماء کی دائمی کمیٹی برائے بحث اور فتویٰ نے فتویٰ صادر کیا ہے کہ زندہ چیزوں کی فوٹو لینی حرام ہے مگر جہاں کوئی انتہائی ضرورت ہو، جس طرح کہ تابعیہ(رہائشی اجازت نامہ) پاسپورٹ اور فاسق و فاجر اور لٹیروں کی تصویریں ہیں تاکہ ان پر کڑی نگاہ رکھ کر جرائم پر قابو پایا جائے اس کے علاوہ اسی طرح کی اور تصویریں لینے کا جواز ہے ،جس کے بغیر چارہ کار نہیں۔ [1] سعودی کرنسی نوٹوں پر بھی تصویر طبع کرنے کی اجازت اہل علم نے ناگزیر ضرورت کے پیش نظر دی ہے۔ عام حالات میں وہ بھی ممانعت کے قائل ہیں۔ ہمارے شیخ محدث روپڑی رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں تصویر کا بنانا تو کسی صورت درست نہیں اور بنی ہوئی کا استعمال دو شرطوں سے درست ہے۔ ایک یہ کہ مستقل نہ ہو، کپڑے وغیرہ میں نقش ہو۔ دوم نیچے رہے۔ بلند نہ لٹکائی جائے۔ پھر چند ایک احادیث سے اس نظریہ کا اثبات کیا ہے۔ ملاحظہ ہو، فتاویٰ اہل حدیث جلد سوم،ص:345، 346۔ واضح ہو کہ مسئلہ ہذا میں تہدید و عید کی چونکہ کئی ایک روایات وارد ہیں، جن کی صحت و حجیت میں ذرہ برابر شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ لہٰذا مجھے تو اپنے ناقص علم کی حد تک واللہ اعلم احتیاط اس میں نظر آتی ہے کہ بعض احادیث سے اجازت کا پہلو جس انداز میں نکلتا ہے۔ معاملہ صرف انہی صورتوں پر محصور رکھا جائے۔ اور اس میں توسع سے احتراز کرتے ہوئے ظاہری نصوص سے تجاوز نہ کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب و علمہ اتم دورانِ تعلیم حضرت الشیخ محدث روپڑی نے بھی فرمایا تھا کہ گڑیا بنانے اور اس سے کھیلنے کی رخصت صرف بچیوں کے لیے ہے یہ اجازت عام نہیں۔ جناب والا فوٹو کی اجازت کی احادیث کو تلاش کرنے کی بجائے آپ کو ممانعت کی حدیثوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جن کے کتب احادیث میں انبار لگے ہوئے ہیں۔ جب یہ بات مسلمہ ہے کہ احکامِ الٰہی ابدی ہیں تو پھر خود کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کی سعی کرنی چاہیے، فتنہ و فسادات کے زمانہ میں دین میں ترمیم کی سوچ خطرناک نظریہ ہے جس سے بچاؤ ہر صورت ضروری ہے۔ اللہ رب العزت جملہ مسلمانوں کو دین حنیف پر استقامت کی توفیق بخشے۔ آمین بوقتِ ضرورت تصویرکشی کا حکم سوال۔ یہ جو تصویر والا شناختی کارڈ ہے اور پاسپورٹ وغیرہ یا اس طرح کے دیگر کاموں میں جیسے آج کل تصویر کی پابندی لگائی جاتی ہے کیا ان کاموں کے لیے ایسی صورت میں تصویر بنوانا جائز ہے۔ جواب۔بوقت ضرورت جائز ہے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: آداب الزفاف فی السنۃ المطہرۃ علامہ البانی، ص:107،108