کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 491
حضرات تصویریں کس بنا پر کھینچواتے ہیں۔ بَیِّنُوْا بِدَلِیْلِ الشَّرْعِیِّ وَ تُوجرُوْا۔ ( محمد ادریس ستارہ کالونی نمبر 2 سٹریٹ نمبر2چونگی امرسدھو لاہور) جواب۔ تصویر کشی مطلقاً حرام ہے۔ صحیح حدیث میں ہے: ان مصوروں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور انھیں کہا جائے گا کہ جو کچھ تم نے بنایا تھا اب اس میں جان بھی ڈالو۔ شرع کی خلاف ورزی کرنے والے کو بلا امتیاز روزِ جزاء اپنا حساب عدالت باری تعالیٰ میں خود دینا ہوگا۔ مرتکب سوء کو دیکھ کر برائی پر دلیر ہونا خسارہ کا سودا ہے۔ قرآنِ مجید نے یہود کے بگڑے ہوئے معاشرہ کی تصویر کشی یوں کی ہے: (مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوْا التَّوْرٰۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْہَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ) (الجمعۃ: 5) ”جن لوگوں کے سر پر تورات لدوائی گئی پھر انھوں نے اس کے بارِ تعمیل کو نہ اٹھایا ان کی مثال گدھے کی سی ہے جس پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ آج ہمارا ماحول بھی کوئی اس سے مختلف نہیں اس حمام میں سب ننگے نظر آتے ہیں۔ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبِّیْ۔ اللہ رب العزت جملہ مسلمانوں کو فہم و بصیرت سے نوازے۔ آمین۔ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے لیے تصویر بنوانا جائز ہے؟ سوال۔ تصویر والا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ یا اس طرح کے دیگر کاموں میں آج کل تصویر کی پابندی کروائی جاتی ہے کیا ان کاموں کے لیے؟ تصویر بنوانا جائز ہے۔ (حسن ماڈل ٹاؤن، گوجراں والا)(14اپریل 2008ء) جواب۔ بوقت ضرورت جائز ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو :آداب الزفاف فی السنۃ المطہرۃ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ ، ص: 107،108) کیا کیمرہ والی تصویریں عکس کے حکم میں ہیں یا تصویروں کے حکم میں ہیں؟ سوال۔ تصویر کے بارے میں شریعت نے سختی سے روکا ہے۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس جدید دور میں جو تصویر کیمرہ کے ساتھ لی جاتی ہے وہ اس ضمن میں نہیں آتی بلکہ یہ ممانعت ان تصاویر کے بارہ میں ہے جو ہاتھ سے بنائی جاتی ہیں اور کیمرہ کی تصویریں تو ایک عکس ہے۔ لہٰذا یہ جائز ہے۔ (عبد الرحمن حفیظ۔ باغ آزاد کشمیر) (5 ستمبر 1997ء) جواب۔ اسلام میں بلا استثناء ہر ذی روح کی تصویر حرام ہے۔ چاہے جونسی صورت میں تصویر کشی کی جائے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو بھی تصویر یا مجسّمہ دیکھو اسے مٹا دو۔ اور جو قبر اونچی دیکھو اسے برابر کر دو۔ نیز [1] ۔ مسند احمد:3383،صحیح البخاری،رقم:7042،سنن أبی داؤد،رقم:5024 [2] ۔ السنن الکبری للبیہقی،رقم:21008 سنن ابی داؤد،بَابُ کَرَاہِیَۃِ الْغِنَاء ِ وَالزَّمْرِ،رقم:4927