کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 485
جواب۔ ٹائی پہننے کی حالت میں کسی کو دیکھ کر عیسائی ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو گنجائش ہے ، تاہم ورع و تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ٹائی لگانے سے قطعاً اجتناب کیا جائے۔(مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فتاویٰ اہل حدیث:3/338تا 344) مرد کا اپنے کپڑوں پر کڑھائی کروانا سوال۔ مرد کا اپنے کپڑوں پر کڑھائی کروانا کیسا فعل ہے؟ (احسان ملک، گل بہار کالونی۔ فیصل آباد)(7 جون 1996ء) جواب۔ مرد کے لباس پر کڑھائی اگر عورت کے لباس کے مشابہ ہو تو حرام ہے بصورتِ دیگر کوئی حرج نہیں۔ مرد کے لیے ریشم پہننا حرام ہے؟ سوال۔ مرد کے لیے ریشم پہننا حرام ہے ۔اس وقت بازار میں کھدّر، لٹھا، ململ کے علاوہ تقریباً ہر مردانہ کپڑے کو دیکھنے یا ہاتھ سے چھونے سے ریشمی ہونے کا ہی گمان ہوتا ہے۔ (رانا محمد اقبال ۔ ساہیوال) (27 جون 1997ء) جواب۔ مردانہ کسی کپڑے کا صرف ریشمی گمان ہونا کافی نہیں۔ چھان بین کرلینی چاہیے۔ فی الواقع ریشمی ہو تو حرام ہے ورنہ نہیں۔ گانا بجانا مطلقاً حرام ہے سوال۔1۔کیا گانے وغیرہ سننا، موسیقی سننا وغیرہ گناہ ہے۔ کیا یہ گناہِ کبیرہ ہے۔ یا گناہِ صغیرہ۔ اس کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں دیں۔ 2۔اگر آدمی تھوڑے بہت گانے بھی سنے اور ساتھ ساتھ اپنے اچھے اعمال یعنی ارکانِ دین بھی پورے کرتا رہے تو اس میں کوئی حرج ہے یا نہیں۔(سائل محمد سعید:16 پیپلز کالونی اوکاڑا) جواب۔ کتاب و سنت اور ائمہ سنت کی تصریحات کے مطابق گانا بجانا سننا سنانا مطلقاً حرام اور کبائر سے ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں ہے: (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ)(لقمان:6) ”اور لوگوں میں سے بعض ایسا ہے جو بیہودہ حکایتیں خریدتا ہے تاکہ( لوگوں کو) بے سمجھے اللہ کے رستے سے گمراہ کرے اور اس سے استہزاء کرے یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا۔‘‘ ائمہ مفسرین نے اس آیت کریمہ کا شانِ نزول یہ بیان کیا ہے کہ رؤساء قریش میں سے ایک شخص نضر بن الحارث بغرضِ تجارت حیرہ جاتا تھا۔ وہاں سے شاہانِ فارس اور رستم اور اسفند یار وغیرہ کی حکایات و واقعات پر مشتمل کتابیں خرید لاتا۔ مکہ میں لوگوں کو ان کے پڑھنے کی ترغیب دیتا۔ کہتا لوگو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم کو قومِ عاد اور ثمود کے قصے سناتا ہے اور میں تم کو [1] ۔ سنن ابی داؤد، بَابٌ فِی حَلْقِ الرَّأْسِ،رقم:4192 [2] ۔ صحیح مسلم،بَابُ کَرَاہَۃِ الْقَزَعِ،رقم:2120