کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 471
(ایک سائل کریم پارک لاہور) (13 اکتوبر 1995ء) جواب یہ بھی ڈاڑھی میں شامل ہیں ان کو بھی لینا ناجائز ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماص(چہرے کے بال اکھاڑنے) سے منع فرمایا ہے۔ [1] مقدارِ لحیہ: حافظ ثناء اللہ صاحب کے ایک فتویٰ پر تعاقب اور اس کا جواب تعاقب: ہفت روزہ الاعتصام لاہور مجریہ 11نومبر1994ء کے ص8پر احکام و مسائل کے تحت ’’ڈاڑھی کا شرعاً کیا حکم ہے ، ڈاڑھی کی مقدارِ شرعی کیا ہے؟ ‘‘ دو سوال مذکور ہیں جن کا جواب فضیلۃ الشیخ الحافظ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ نے تحریر فرمایا۔ ” ڈاڑھی کو انبیاء علیہم السلام کی سنت قدیمہ بروایت(عَشْرٌ مِّنَ الْفِطْرَۃِ اَیْ مِنْ سُنَّۃ الاَنْبِیَائِ الَّذِیْنَ اَمَرَنَا اَنْ نَقْتَدِیْ بِہِمْ)(الحدیث، نسائی،ص: 237) اور وجوب، بصیغہ امر، (أَعْفُوْا ، اَوْفُوْا، اَرْخُوْا ، اَرْجُوْا ، وَفِّرُوْا)ثابت کرنے کے بعد آپ نے مداہنت اختیار کی کہ ”اگر کوئی شخص مٹھی سے زائد کٹا دے تو بعض آثار کی بناء پر گنجائش ہے۔ بالخصوص راوی حدیث( اللِّحْیَۃ) ابن عمر رضی اللہ عنھما کے عمل سے اس نظریہ کو تقویت ملتی ہے۔‘‘ پھر جواب نمبر2میں ترک علی الحال کے بعد ارشاد فرمایا کہ: ”مٹھی سے زائد سابقہ حوالوں کی بناء پر کٹوانی جائز ہے کٹوانے کی مرفوع روایت بھی بحوالہ ترمذی بیان کی جاتی ہے لیکن اس میں عمر بن ہارون راوی ضعیف ہے۔‘‘ اب غور طلب بات یہ ہے کہ کیا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کا یہ فعل دائمی تھا جس کو حجت کے طور پر پیش کیا گیا ہے؟ چنانچہ’’صحیح بخاری‘‘میں ہے: ( وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ : إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَی لِحْیَتِہِ، فَمَا فَضَلَ أَخَذَہُ ) [2] اس عبارت سے یہ ظاہر ہے کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا یہ فعل دائمی نہ تھا بلکہ مخصوص بالحج والعمرۃ تھا۔ اب اس مخصوص اور مقید فعل سے عام استدلال کرنا کیونکر صحیح ہوگا؟نیز عون المعبود میں ہے کہ: ( کَانُوا یُقَصِّرُونَ مِنَ اللِّحْیَۃِ فِی النُّسُکِ) یہاں بھی نسک کی شرط ہے اس کے بغیر ڈاڑھی کترانا حرام ہے۔ علامہ مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ کا فیصلہ علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ ’’تحفۃ الاحوذی‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: [1] ۔ صحیح مسلم،بَابٌ فِی صَبْغِ الشَّعْرِ وَتَغْیِیرِ الشَّیْبِ،رقم:2102 [2] ۔ أیضًا