کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 460
”خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض عملوں کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں۔‘‘ اس پریشان کن صورتِ حال سے نکلنے کی تدبیر یہ ہے کہ ہم اللہ کے حضور توبہ انابت کریں اور اپنی زندگی کو کتاب وسنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں اس پرکاربند رہنے میں دنیا وآخرت کی ساری بھلائی ہے۔ اگر ہم نے اپنے کو سدھارنے کی سعی نہ کی تو نوشتہ دیوار تباہی کوئی نہیں روک سکتا۔ ارشادِ الٰہی ہے: (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اﷲُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗٓ لا اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لآئِمٍ ط ذٰلِکَ فَضْلُ اﷲِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُط وَ اﷲُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ) (المائدۃ:54) ”اے ایمان والو! اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ ایسے لوگ پیدا کردے گا جن کو دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں۔ اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ دوسرے مقام پر فرمایا: (یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِؤا نُوْرَ اﷲِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَ یَاْبَی اﷲُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَ لَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ o ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖلا وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ) (التوبۃ: 32۔33) ”یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کیے بغیر رہنے کا نہیں۔ اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرک ناخوش ہی ہوں۔‘‘ قرآنی نصوص اس بات پر دال ہیں کہ غلبہ دین کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا اگر ہم نے اپنی اصلاح احوال کی طرف توجہ نہ دی تو ہماری جگہ دوسرے لوگ آجائیں گے جن کے ہاتھ پر یقینا غلبہ دین ہوگا۔ مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں مایوسی کفار کا شیوہ ہے۔ مومن اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ قَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: سَتَرَوْنَ بَعْدِی أُمُورًا تُنْکِرُونَہَا،رقم:7054