کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 459
چڑھ کرپبلسٹی(تشہیر) کرتے ہیں۔ اور ان تنظیموں کے کارکنوں کو اللہ کی قسم میں نے خود ایک دوسرے کی مخالفت کرتے سنا ہے۔ اب ایسی صورتِ حال میں ایک مسلمان اپنے خون پسینے کی کمائی کس تنظیم کی نذر کرے؟ مجھے امید ہے کہ آپ ہر صورت اپنی دعوت و منہج کا پاس رکھتے ہوئے اپنے رسالہ ’’الاعتصام‘‘ میں ان سوالات کا جواب ضرور عنایت فرمائیں گے۔ میں آپ کا شکرگزار ہوں گا۔ (ابوعبداللہ شہداد کوٹ سندھ) (13 ستمبر 1996ء) جواب۔موجودہ جہادی تنظیمیں اگر واقعتا اپنے اعمال و اقوال میں مخلص ہیں تو کم از کم ان کو کلمۃ واحدۃ پر جمع ہو جانا چاہیے تاکہ ثمرات و غایات کا حصول آسانی سے ممکن ہو سکے۔ ان کی آپس کی نزاع کو بھی ختم کرنے کا یہ آسان ترین نسخہ ہے کہ کسی ایک کی قیادت پر مجتمع ہو جائیں۔ ایک عام مسلمان اپنی حلال کی کمائی سے بلاامتیاز ان مجاہدین کی امداد کرے جن کو وہ اقرب الی الصواب سمجھتا ہے۔ کفار کا اہل اسلام پر ظلم آخر کیوں؟ سوال۔ تاریخ مسلمہ کے موجودہ دور اور خصوصاً 11/9 کے تناظر میں مسلمانان عالم اور عالم اسلام کی جو صورت حال ہوگئی ہے وہ سب اہل علم ونظر حضرات کے سامنے بالکل واضح اور عیاں ہے۔ لہٰذا اس داستان کو دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن موجودہ صورت حال کو سامنے رکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب عالم کفر کا قطعی منصوبہ امت مسلمہ اور عالم اسلام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نیست اور نابود کرکے ہی دم لینے کا ہے۔ العیاذ باللہ تعالیٰ اس صورتِ حال سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر امت کے اپنے اندرونی خلفشار، دینی واخلاقی، سیاسی ومعاشی زوال کی تیز رفتاری کا یہی عالم رہا تو پھر ہماری اس شکست خوردگی کی آخری منزل کیا ہوگی؟ کیا اب امت کے وجود کا باقی رہنا ممکن ہوسکے گا؟ اگر ہوسکے گا تو اس کی صورت کیا ہوگی؟ آپ حضرات کے نزدیک مذکورہ صورت حال کے پیدا ہونے کے حقیقی اسباب وعوامل کیا ہیں؟ کیا یہ سب اسباب ہمارے دشمنوں کے پیدا کردہ ہیں یا ان کے پیدا کرنے والے اور ذمہ دار ہم خود بھی ہیں؟ کیا اس صورتِ حال سے نکلنے کی کوئی تدبیر اب بھی باقی ہے؟ اگر باقی ہے تو وہ کیا ہے؟ اسباب زوال اور نجات کے لیے ممکنہ تدابیر فکر مند مسلمانوں کے سامنے لانے کی بے حد ضرورت ہے۔ علمائے کرام اور دانشور اہل قلم حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اس صورتِ حال پر اپنا حقیقت پسندانہ، بے لاگ اور جامع تجزیہ اور اس کا قابل عمل حل تحریر فرما کر رہنمائی کریں۔ (سائل: پروفیسر عبدالخالق سہریانی بلوچ، کندھ کوٹ، سندھ)(24اگست 2007ء) جواب۔ موجودہ صورتِ حال ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ قرآنِ مجید نے اس کی نشان دہی فرمائی ہے: ( ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ) (الروم:41) [1] ۔ فتح الباری:13/7