کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 451
٭ پیر بھائیوں کی بیعت شرعی نقطہ نظر سے کیسی ہے؟ ٭آج کے دور میں کس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے؟ نیز بتائیں کہ بیعت کن موقعوں پر کی جاتی ہے اور کس کے ہاتھ پر کی جاتی ہے؟ ٭ جب ہم نے کلمہ پڑھ لیا ہے تو کیا کسی کا بیعت ہونا ضروری ہے؟ (سائل)(3۔اگست 2007ء) جواب۔ ڈاکٹر اسرار اور تبلیغی جماعت اور پیر بھائیوں کی مروجہ بیعت کتاب وسنت سے ثابت نہیں ہے۔ بیعت کا تعلق صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے یا اُن کے قائم مقام سے ہوتا ہے۔ صاحب اقتدار خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت ہوتی ہے جو کتاب وسنت کا داعی ہو۔ موجودہ دور میں سعودی عرب کے سربراہِ مملکت کی بیعت ممکن ہے۔ خلیفہ وقت جب مناسب سمجھے حالات کے مطابق بیعت لے سکتا ہے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد اپنے رب سے شریعت کی پابندی کا صرف عہد ہی کافی ہوسکتا ہے۔ کسی سے بیعت کرنا ضروری نہیں قرآن میں ہے: (وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللّٰه ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ) (التوبۃ: 111) ”اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ سو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ قصۂ ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ عدم بیعت کی واضح دلیل ہے۔[1] کیا زندگی میں کسی کا بیعت ہونا صحیح ضروری ہے؟ سوال۔ کیا زندگی میں کسی کا بیعت ہونا صحیح ہے؟ جیسے عموماً لوگ پیر ومرشد پکڑتے ہیں۔ (ذوالفقار علی) (17مارچ 1995ء) جواب۔ محض پیری مریدی کی بیعت کا شرع میں کوئی وجود نہیں۔ بیعت کا اصل تعلق نبی کی ذات سے ہوتا ہے جو اللہ کے ساتھ پابندی عہد کی صورت میں ضمانت ہے یا پھر خلافت کی صورت میں جو اس کا قائم مقام ہو اس کی بیعت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اسلام میں بیعت کا کوئی تصور نہیں۔ اگر اس کا کوئی وجود ہوتا تو(قُرُوْنِ مُّفَضَّلَۃ) یعنی صحابہ وتابعین کے خیر وبرکات والے زمانے، اس کے زیادہ حق دار ہوتے جب کہ ان میں اس کا نام ونشان تک نہیں ملتا۔ لہٰذا یہ (کُلُّ مُحْدَثٍ بِدْعَۃٌ)کے زمرہ میں شامل ہے۔ کیا آج کے دور میں بیعت کرنا ’’بدعت‘‘ ہے؟ سوال۔ 19؍ جولائی 1996ء شمارہ نمبر 27 میں آپ کا ایک فتویٰ شائع ہوا تھا جس میں آپ نے بیعت کو بدعت قرار دیا [1] ۔صحيح البخاري ،باب كثرة النساء رقم 5069۔