کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 447
جواب۔ دنیاوی تعلیم کا حصول اگر دین کی معاونت کے لیے ہے تو یہ بھی دین ہی بن جاتی ہے۔ (إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ) [1] ایسا آدمی موت کی صورت میں اجر و ثواب سے محروم نہیں۔ ان شاء اﷲ۔ کیا دنیاوی علم حاصل کرنے کا مرتبہ دینی علم حاصل کرنے والے کے برابر ہو سکتا ہے؟ سوال۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے۔ علم کا حاصل کرنا ہر مرد، عورت پر فرض ہے۔ کیا اس علم میں دین کے علاوہ دنیاوی علم بھی شامل ہے؟ اور یہ بھی ارشاد ہے کہ ’’جو علم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے وہ اﷲ کی راہ میں نکلتا ہے اب جو دنیاوی علم صرف اور صرف دین کو قائم پہنچانے کے لیے حاصل کرے گا، کیا اس کا مرتبہ بھی اتنا ہی ہو گا جتنا کہ دین کا علم حاصل کرنے والے کا؟ جب کہ دنیاوی علم حاصل کرنے والے نے دین کے بنیادی علم کو حاصل کر لیا ہو؟ (محمد جہانگیر پوٹھ شیرڈ ڈیال میر پور کے۔ اے) (26 دسمبر 1997ء) جواب۔ دنیاوی علم کو جب دینی جذبہ سے حاصل کیا جائے وہ بھی اسکے حکم میں ہے: (إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ) [2] ارکانِ شوریٰ کی خصوصیات اور نئی جماعت بنانا سوال۔ ایک جماعت کی شوریٰ کمیٹی کے ممبران کی کیا خصوصیات ہونی چاہیے؟ اور شوریٰ کے ممبران منتخب کرنے کے لیے شرعی طریقہ کیا ہے؟ آج کل کی جماعتوں کی حالت کا تو آپ کو بھی علم ہے۔ کیا ان جماعتوں کے ہوتے ہوئے اگر ہم دیکھیں کہ یہ جماعتیں کتاب و سنت کے مطابق کام نہیں کر رہی ہیں تو کیا دوسری جماعت بنا سکتے ہیں؟ ان مسائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔ (ایک سائل) (24مئی 1996ء) جواب۔ ارکانِ شورٰی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہل علم اور امین ہوں۔ شیخین حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنھما ان اوصاف کے حاملین سے مشورہ کرتے تھے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (وَکَانَتِ الأَئِمَّۃُ بَعْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْتَشِیرُونَ الأُمَنَاء َ مِنْ أَہْلِ العِلْمِ فِی الأُمُورِ المُبَاحَۃِ لِیَأْخُذُوا بِأَسْہَلِہَا …… وَکَانَ القُرَّاء ُ أَصْحَابَ مَشْورَۃِ عُمَرَ کُہُولًا کَانُوا أَوْ شُبَّانًا، وَکَانَ وَقَّافًا عِنْدَ کِتَابِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ) [3] [1] ۔ تفسیر کبیر:7/70