کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 445
نام رکھنا غلط ہے۔ غزوہ وہ ہوتا ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شامل ہوں۔ جواب۔ اصحابِ مغازی کے نزدیک مغازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مفہوم یہ ہے: (مَا وَقَعَ مِنْ قَصْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ الکُفَّارَ بِنَفْسِہٖ اَوْ بِجَیْشٍ مِنْ قِبَلِہ) [1] ”یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بذاتِہٖ کفار کا قصد کرنا یا آپ کا اپنی طرف سے ان کے مقابلہ میں لشکر روانہ کرنا۔‘‘ اس تعریف سے معلوم ہوا کہ غزوۂ کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بنفسِ نفیس شریک ہونا ضروری نہیں۔ لفظ غزوہ کا اصل معنی قصد الشئی ہے۔ تفسیر قرطبی(4/246) اور فتح الباری(7/279) میں ہے : (وَأَصْلُ الْغَزْوِ الْقَصْدُ وَمَغْزَی الْکَلَامِ مَقْصَدُہُ ) یعنی ”کسی شئے کا قصد کرنا۔‘‘ لغوی معنی کے اعتبار سے اس کا اطلاق غزوۂ ہند پر ہو سکتا ہے۔ قرآن میں ہے:(اَوْ کَانُوْا غُزًّی)(آل عمرٰن:156) ’’یا جہاد کو نکلیں۔‘‘ جہادی ٹریننگ کا شرعی حکم کیا ؟ ( بعض جاہلوں کے فتوے کی کیا حیثیت ہے) سوال۔ ایک شخص نے موقف پیش کیا کہ ’’جس شخص نے 21دن کی جہادی بنیادی ٹریننگ نہیں کی وہ پکا کافر اور منافق ہے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ بے شمار انبیاء ، صلحاء اور اولیاء ، صحابہ و تابعین اور محدثین و ائمہ دین وغیرہم ہیں جنھوں نے مذکورہ 21 دن کی ٹریننگ نہیں کی۔ مذکورہ آدمی کے قول کی شریعت اسلامیہ کی روشنی میں کیا حیثیت ہے؟ (سائل) (13 جون 203ء) جواب۔اس میں کچھ شک نہیں ہر مسلمان کے لیے بقدرِ استطاعت جہاد کی تیاری ضروری ہے۔ ساری زندگی اس بات پر قائم ودائم رہنا چاہیے، اس کے لیے دنوں کی کوئی قید نہیں، سلف صالحین اسی پر عمل پیرا تھے۔ سوچے سمجھے بغیر اوربغیر علم کے فتویٰ بازی نہیں کرنی چاہیے اس سے امت میں گمراہی اور افراتفری پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ جہاد کے لیے زندگی وقف کرنا ،والدین سے اجازت لینا اور شادی نہ کرنا: سوال۔ آج کل موجودہ زمانے میں جہاد سب پر فرض ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا اس کے لیے کوئی شخص ساری زندگی اس میں وقف کر سکتاہے؟ یعنی باوجود وسائل کے وہ شادی نہ کرے یا جہاد کے لیے اپنے والدین سے اجازت نہ لے۔ (ایک سائل)(24مئی1996ء) جواب۔ قرآنی آیت (وَ اَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ)(الانفال:60) کے پیش نظر جملہ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ فوجی تربیت حاصل کریں اور ہمہ تن جہاد کے لیے تیار رہیں۔ بوقتِ ضرورت میدانِ معرکہ میں کود پڑیں۔ [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ یُقَاتَلُ مِنْ وَرَاء ِ الإِمَامِ وَیُتَّقَی بِہِ،رقم:2957