کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 443
لیکن ہماری صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔ تمام جہادی تنظیموں کو چاہیے کہ علیحدہ علیحدہ کی بجائے متحدہ قیادت میں جہاد کی سعی کریں، جس کو شریعت نے امامت سے تعبیر کیا ہے۔ (وَإِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّۃٌ یُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِہِ) [1] ”امام ڈھال ہے جس کے پیچھے لڑائی کی جاتی ہے۔‘‘ کی تصویر کا نظر آنا ضروری ہے ۔ تاکہ امت ِ مسلمہ کماحقہ جہاد کے ثمرات سے مطلوبہ شکل میں مستفید ہو سکے۔ ورنہ تفرق و تشتت کی صورت میں انجام کار وہی کچھ ہے جس کا مشاہدہ افغانستان میں ہو رہا ہے۔وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ۔ کیا کشمیر میں لڑائی فی الواقع اسلامی جہاد کا حصہ ہے سوال۔ کیا کشمیر میں لڑائی فی الواقع اسلامی جہاد کا حصہ ہے ۔ اس سلسلہ میں کچھ لوگ شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ وضاحت فرمائیں۔ (ایک سائل) (8 جنوری 1999ء) جواب۔ کشمیر کا جہاد بلاشبہ اسلامی جہاد ہے۔ اس لیے کہ وہ لوگ مظلوم ہیں۔ ہندو بنیا مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کا جانی دشمن ہے۔ ہر لمحہ گھات لگائے بیٹھا ہے کہ ہر ممکن طریق سے اہل اسلام کو نیست ونابود کردیا جائے۔ لہٰذا جہاد کی متنوع صورتوں میں سے کسی ایک کے ذریعے اس میں ضرور حصہ لینا چاہیے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرُنِ o الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ) (الحج: 39/40) ”جن مسلمانوں سے کافر جنگ کر رہے ہیں۔ انھیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیوں کہ وہ مظلوم ہیں بے شک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے۔ یہ وہ ہیں جنھیں بلاوجہ ان کے گھروں سے نکالا گیا صرف ان کے اس قول پر کہ ہمارا پروردگار فقط اللہ ہے۔‘‘ موجودہ جہادی مہم اور اصلاح کی ایک صورت سوال۔ اگرچہ یہ چند الفاظ بعض جماعتوں کے لیے کھٹکیں گے لیکن شرعی وضاحت بھی ضروری ہے کہ کشمیر میں جو مختلف تنظیمیں جہاد میں برسرِ پیکار ہیں۔ یہ لوگ اگر محدود ہندو فوجی قتل کرتے ہیں تو ان کے عوض انڈین فوجی پورے گاؤں کا محاصرہ کرتے ہیں۔ عورتوں کی عصمت دری کرتے ہیں۔ بچوں بوڑھوں کو اذیتیں دے کر ختم کرتے ہیں۔ یعنی ان حریت پسندوں کا یہ فعل تمام گاؤں کے لیے وبالِ جان بن جاتا ہے۔ کیا یہ درست ہے اور جہاد ہے؟ اگر ان جہادی تنظیموں کا [1] ۔ مصنف عبدالرزاق(ج:2ص: 336) بَابُ مَوْتِہِ قَبْلَ سَابِعِہِ وَمَتَی یُسَمَّی وَمَا یُصْنَعُ بِہِ رقم:7985 [2] ۔ شرح السنۃ(ج:11،ص:273) بابُ الأذانِ فِی أُذنِ الْموْلُودِ، رقم:2822