کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 441
2۔جہاد پر جانے کے لیے والدین کی اجازت اوّلین فرض ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ’’صحیح ‘‘ میں تبویب قائم کی ہے: (بَابُ الجِہَادِ بِإِذْنِ الأَبَوَیْنِ) یعنی جہاد میں والدین کی اجازت کا بیان۔ پھر اس کے ضمن میں یہ حدیث لائے ہیں۔ ”ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جہاد کی طلب میں حاضر ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں ؟ اس نے کہا ہاں ! تو فرمایا انہی کی خدمت کرتا رہ۔‘‘ [1] اجازت نہ ملنے کی صورت میں والدین کو دھمکی آمیز خطوط لکھنے والا اللہ اور اس کے رسول کا نافرمان ہے اسے اپنے انجام پر غور کرنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ساری محنت اکارت جائے۔ 3۔ بیٹے کا فرض ہے کہ جہادی مہم سے واپس آکر پہلے والدین کو راضی کرے پھر ان کی اجازت پر واپسی موقوف رکھے ورنہ انجامِ کار پر خطرہ ہے۔ 4۔ جہاد بالسیف کے لیے ابتدائی مرحلہ یہ ہے کہ پہلے جہادی تربیت حاصل کی جائے پھر دشمن سے مقابلہ کے لیے اپنے کوہر وقت تیار رکھے۔ ضرورت پڑنے پر میدانِ کارزار میں کود جائے۔ مختلف ٹولیوںاور علیحدہ علیحدہ جماعتوں کے جہاد کی شرعی حیثیت سوال۔ عصر حاضرمیں مختلف جماعتیں لوگوں کو جہاد کی ترغیب دیتی ہیں، حالاں کہ ٹولیوں اور محدود افراد کی صورت میں جہاد کرنے سے مسلمانوں کی طاقت کمزور ہو رہی ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ حالات کے مطابق جہاد کا طریقہ کار وضع کرنا امیر کا کام ہوتا ہے اور موجودہ حالات میں جہاد کا یہی طریقہ کار موزوں ہے۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ٹولیوں کی شکل میں جہاد کا کیا حکم ہے؟(سائل) (16جنوری 2004ء) جواب۔ کسی حد تک اس کا جواز ہے تاہم اصلاً متحدہ قیادت کے تحت جہاد ہونا چاہیے ۔ شریک ہونے والا اپنی نیت کے مطابق اجر پائے گا اگرچہ طریقہ کار میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ کیا فطرانہ اور قربانی کی کھال جہاد کے لیے دی جا سکتی ہے؟ سوال۔ ہفت روزہ’’اہل حدیث‘‘ میں حافظ عبدالستار الحماد صاحب حفظہ اللہ نے ایک سوال کے جواب میں جو فرمایا ہے (تراشہ لف ہذا ہے) کہ مجاہدین کو فطرانہ اور کھال نہیں لگتی۔ آیا یہ درست ہے ؟ وضاحت سے جواب لکھیں۔ ہمارے ہاں ایسے لگتا ہے کہ مجاہدین تنظیموں کا بھی یہی کام رہ گیا ہے۔ امید ہے اپنی پہلی فرصت میں جواب مرحمت فرمادیں گے۔ (محمد اسلام طاہر محمدی) (13/ اگست 2004ء)