کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 439
8۔ محترم شیخ شعیب الارنوؤط اور شیخ عبدالقادر ارنوؤط نے ’’ابو رافع‘‘ والی حدیث کو تقویت دینے کے لیے ابن عباس رضی اللہ عنھما والی حدیث کو جو امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’شعب الایمان‘‘ میں درج کی اس کو شاہد کے طور پر پیش کرکے اس عمل کو صحیح قرار دیا ہے۔(حوالہ زاد المعاد مع تحقیق و تعلیق ،ج:2،ص:333) 9۔ حضرت مولانا حمید اللہ میرٹھی نے اس عمل کو مسنون قرار دیا ہے۔ (خطباتِ توحید)۔ 10۔ علامہ شیخ العرب والعجم بدیع الدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس عمل کو صحیح قرار دیا ہے۔ (حوالہ خطبات التوحید پر نظر ثانی و افادات) 11۔ فضیلۃ الشیخ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’حدیث ابی رافع‘‘ کو تقویت دینے کے لیے ’’حدیث ابن عباس‘‘ جو امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’شعب الایمان‘‘ میں ہے ، پیش کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ حدیث ابی رافع حسن درجہ کی ہے اور یہ عمل بھی صحیح ہے۔ (حوالہ سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ،ص:331،ج:1) 12۔ امام النووی رحمۃ اللہ علیہ نے اس عمل کو مسنون قرار دیا ہے۔ (حوالہ شرح المھند،ج:4،ص:442) 13۔ علامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب’’تحفۃ الودود‘‘ میں مستقل باب باندھا ہے کہ : (اَلْبَابُ الرَّابِعُ فِی اِسْتِحْبَابِ التَّأْذِیْنَ فِیْ اُذُنِہِ الْیُمْنٰی وَالْاِقَامَۃ فِی اُذُنِہِ الْیُسْرٰی ) ”یہ باب ہے نومولود بچے کے دائیں کان میں اذان کہنے اور بائیں کان میں اقامت کہنے کے بارے میں۔‘‘ تین احادیث اور خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے عمل اور ان تمام علمائے دین، محدثین و محققین کی آراء اور اس عمل کو صحیح قرار دینے کے بعد میری بھی رائے یہی ہے کہ یہ عمل صحیح ہے۔ (وَاللّٰہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی اَعْلَمُ) لڑکی کا ختنہ کرنا کیسا ہے ؟ سوال۔ لڑکی کا ختنہ کرنا واجب ہے یا مستحب؟ (وقار علی۔ لاہور) ( 18 اپریل 1997ء) جواب۔ لڑکی کا ختنہ کرنا مستحب ہے۔ واجب نہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، عون المعبود۔ [1] ۔ سنن ابن ماجہ،بَابُ الْعَقِیقَۃِ،رقم:3162 سنن الترمذی،بَابُ مَا جَاء َ فِی العَقِیقَۃِ،رقم:1513