کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 432
جس طرح کہ ہماری سابقہ وضاحت سے آپ کو معلوم ہوا ہے۔ محترم آپ کا بچہ چونکہ پانچ ماہ کاہونے والا ہے اس کا اور دیگر زائد مدت بچوں کا عقیقہ اب نہیں ہو سکتا۔ عقیقہ صرف ساتویں روز ہی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہیں۔ کما تقدم فی نص الحدیث۔ عقیقہ کے احکام کیا ہیں؟، پندرہ سولہ سال عمر کے بعد عقیقہ ہو گا یا صدقہ؟ سوال۔ عقیقہ کے احکام کیا ہیں؟ ایک شخص کے دو بیٹے ہیں اور ان کی عمریں 16/15برس ہیں۔ کیا اب عقیقہ ہو گا یا صرف صدقہ کا اجر ملے گا ؟ نیز طریقۂ کار کیا ہے ؟( سائل: حافظ فیض الرحمن فاروقی، سندھ) (15 اکتوبر1999ء) جواب۔ عقیقہ اس جانور کو کہتے ہیں جو بچے کی پیدائش کے ساتویں دن ذبح کیا جاتا ہے۔(منہاج المسلم،ص312) اس کے چند احکام مختصراً یہ ہیں: لڑکی کی طرف سے ایک جانور اور لڑکے کی طرف سے دو جانور دینا مستحب ہے۔ اور یہ بھی مستحب ہے کہ ساتویں دن بچے کا اچھا نام تجویز کیا جائے۔ اس دن سر مونڈا جائے اور بالوں کے ہم وزن چاندی خیرات کردی جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ عقیقہ ساتویں دن کیا جائے۔ حدیث میں ہے: (یُذْبَحُ عَنْہُ یَوْمَ السَّابِعِ) [1] اس کے بعد عقیقہ کرنے کی کوئی نص صریح صحیح نظر سے نہیں گزری اور اس میں تو کوئی اشکال نہیں کہ صدقہ کا اجر ملے گا۔ ان شاء اللہ۔ طریقۂ کار یہ ہے کہ فقراء و مساکین میں تقسیم کردیا جائے۔ مسنون طریقۂ عقیقہ کیا ہے؟ جانور کا گوشت کچا تقسیم کیا جائے یا پکا کر ؟ سوال۔ کیا عقیقہ میں جانور کا مسنّہ ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اور عقیقہ کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ آیا جانور ذبح کر کے تقسیم کر دیا جائے یا پکا کر لوگوں کو کھلایا جائے؟ نیز بعض جاہل لوگوں کا خیال ہے کہ بچے کے والدین عقیقہ کا گوشت نہ کھائیں۔ کیا یہ صحیح ہے؟ (عبد الستار) ( 4۔ اپریل 1997ء) جواب۔ عقیقہ کے جانور کے بارے میں کسی حدیث میں تصریح وارد نہیں۔ صرف(مُکافِئَتَانِِ) [2] کا لفظ آیا ہے اور اس کے معنی میں اختلاف ہے کسی کے نزدیک قربانی کے جانور کے برابر اور بعض نے کہا ایک دوسرے کے برابر اور ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ ذبح ہونے میں برابر یعنی ایک دوسرے کے متصل ذبح کیے جائیں۔ لہٰذا احتیاط اس میں ہے کہ مُسنّہ ذبح کیا جائے اور عقیقہ کے جانور کے گوشت کا حکم قربانی جیسا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ، قبل رقم الحدیث:5510