کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 431
ہونا چاہیے۔کاہلی اور سستی سے گناہ گار ہونے کا اندیشہ ہے ۔ ہمارے شیخ محدث روپڑی رحمۃ اللہ علیہ وجوب کے قائل ہیں۔ جب کہ امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ استحباب کا ہے۔ لیکن شیخنا رحمہ اللہ نے علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ سے موافقت نہیں کی بلکہ ان کے خلاف دلائل پیش کیے ہیں۔ ملاحظہ ہو: فتاویٰ اہل حدیث (3/309) اور جس کو عقیقہ کی استطاعت نہ ہو یہ قابل ِ مؤاخذہ نہیں۔ ممکن ہے اس کو نیت کا ثواب عمل سے زیادہ مل جائے۔ حدیث میں ہے: ( نِیَّۃُ الْمُوْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ ) [1] عقیقہ کب اور کب تک؟ سوال۔ ہم نے بچے کا عقیقہ نہیں کیا۔ اب بچہ پانچ ماہ کا ہونے والا ہے کیا ہم اب بھی عقیقہ کر سکتے ہیں؟ اس کے علاوہ کئی لوگوں نے بچوں، بچیوں کا عقیقہ نہیں کیا ۔ کیا وہ اب بھی کئی سال کے بعد بچوں کا عقیقہ کر سکتے ہیں۔ صحیح طریقہ اور مقدار بھی بتادیں؟(ام طلحہ۔جہلم) (12فروری 1999ء) جواب۔ جامع ترمذی میں حدیث ہے: (یُذْبَحُ عَنْہُ یَوْمَ السَّابِعِ) [2] ”یعنی بچے کی طرف سے ولادت کے ساتویں روز عقیقہ کیا جائے۔ ‘‘ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی بات کے قائل ہیں۔ لیکن ان کے نزدیک یومِ ولادت اس میں شامل نہیں۔ الا یہ کہ بچہ طلوعِ فجر سے پہلے پیدا ہو، لیکن اطلاقِ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ولادت کا دن بھی اس میں شامل ہے۔ محدث مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ نے اسی مسلک کو اختیار کیا ہے۔ پھر ظاہر حدیث اس بات پر دال ہے کہ عقیقہ کیلیے ساتواں دن مقرر ہے۔ علامہ مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (قُلْتُ وَالظَّاہِرُ أَنَّ الْعَقِیقَۃَ مُؤَقَّتَۃٌ بِالْیَوْمِ السَّابِعِ فَقَوْلُ مَالِکٍ ہُوَ الظَّاہِرُ وَاللّٰهُ تَعَالَی أَعْلَمُ وَأَمَّا رِوَایَۃُ السَّابِعِ الثَّانِی وَالسَّابِعِ الثَّالِثِ فَضَعِیفَۃٌ کَمَا عَرَفْتَ فِیمَا مَرَّ) [3] ”یعنی میں کہتا ہوں عقیقہ کے لیے ساتواں دن مقرر ہے۔ مالک رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہی ظاہر ہے۔(وَاللّٰہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی اَعْلَمُ) اور جہاں تک تعلق ہے دوسرے اور تیسرے ہفتے میں عقیقہ کرنے کا۔ سو یہ روایات کمزور ہیں۔‘‘ [1] ۔ فتاویٰ اسلامیہ :3/431 [2] ۔ صحیح البخاری، فی ترجمۃ الباب : التَّسْمِیَۃِ عَلَی الذَّبِیحَۃِ، وَمَنْ تَرَکَ مُتَعَمِّدًا۔ قبل رقم الحدیث:5498 [3] ۔ فتح الباری :9/624